ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 162

لٰکِنِ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡہُمۡ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ وَ الۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ الۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ اُولٰٓئِکَ سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۱۶۲﴾٪
لیکن ان میں سے وہ لوگ جو علم میں پختہ ہیں اور جو مومن ہیں، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں جو تیری طرف نازل کیا گیا اور جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا اور جو خاص کر نماز ادا کرنے والے ہیں اور جو زکوٰۃ دینے والے اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہیں، یہ لوگ ہیں جنھیں ہم عنقریب بہت بڑا اجر عطا کریں گے۔ En
مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے
En
لیکن ان میں سے جو کامل اور مضبوط علم والے ہیں اور ایمان والے ہیں جو اس پر ایمان ﻻتے ہیں جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور نمازوں کو قائم رکھنے والے ہیں اور زکوٰة کے ادا کرنے والے ہیں اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں یہ ہیں جنہیں ہم بہت بڑے اجر عطا فرمائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 162) ➊ {لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ ……:} علم میں پختہ وہ لوگ ہیں جو اﷲ کی طرف سے آنے والی وحی کے متلاشی ہوں اور اسی سے دلیل اور رہنمائی حاصل کریں، نہ لکیر کے فقیر ہوں نہ تقلید آباء کے اور {الْمُؤْمِنُوْنَ} سے مراد تورات پر صحیح ایمان رکھنے والے ہیں، یعنی یہ مومن اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا۔ یہ اہل کتاب کے مومنوں کو بشارت ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لے آئے، مثلاً عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ۔
➋ {وَ الْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوةَ:} اس سے پہلے اور بعد والی تمام صفات مرفوع ہیں اور یہ منصوب ہے، اسے منصوب علی المدح یا علی الاختصاص کہا جاتا ہے۔ گویا یہ {اَخُصُّ } کا مفعول ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے اور جو خاص کر نماز ادا کرنے والے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

162۔ 1 ان سے مراد عبد اللہ بن سلام وغیرہ ہیں جو یہودیوں میں سے مسلمان ہوگئے۔ 162۔ 2 ان سے مراد بھی وہ اہل ایمان ہیں جو اہل کتاب میں سے مسلمان ہوئے یا پھر مہاجرین و انصار مراد ہیں۔ یعنی شریعت کا پختہ علم رکھنے والے اور کمال ایمان سے متصف لوگ ان معاصی کے ارتکاب سے بچتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے۔ 162۔ 3 اس سے مراد زکوٰۃ اموال ہے یا زکوٰۃ نفوس یعنی اپنے اخلاق و کردار کی تطہر اور ان کا تزکیہ کرنا یا دونوں ہی مراد ہیں۔ 162۔ 4 یعنی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ نیز بعث بعد الموت اور عملوں پر جزا اور سزا پر یقین رکھتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

162۔ لیکن ان میں سے جو [213] علم میں پختہ اور ایماندار ہیں وہ اس وحی پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف [214] نازل کی گئی ہے اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی تھی وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور آخرت کے دن [215] پر ایمان رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ہم بہت بڑا اجر عطا کریں گے
[213] علم میں پختہ وہ لوگ ہیں جو منزل من اللہ وحی کے متلاشی ہوں اور وہیں سے دلیل اور رہنمائی حاصل کریں۔ لکیر کے فقیر نہ ہوں۔ نہ تقلید آباء کے پابند ہوں اور نہ ایسے رسم و رواج کے جو دین میں راہ پا کر اس کا حصہ بن گئے ہوں جیسے بدعات وغیرہ۔ جیسے عبد اللہؓ بن سلام اور ان کے ساتھی تھے۔
[214] دوہرا اجر پانے والے:۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اہل کتاب میں سے جو شخص (خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی) اسلام لائے اس کو دوہرا اجر ملے گا۔ ایک اجر اپنے پیغمبر پر ایمان لانے کا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا۔“
[بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل من اسلم من اہل الکتابین]
[215] اس آیت پر آکر یہود کے اس مطالبہ کے جواب ختم ہو رہے ہیں جو انہوں نے آپ سے کیا تھا کہ اگر آپ پر قرآن ایسے یکبارگی آسمان سے اترے جیسے سیدنا موسیٰؑ پر تورات کی الواح نازل ہوئی تھیں، تو تب ہی ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ درمیان میں یہود کے تورات پر ایمان لانے کی کیفیت، ان کی بد کرداریاں اور عہد شکنیاں ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اہل علم کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب پر پوری طرح ایمان لاتے ہیں پھر اس کے احکام کی پوری طرح پابندی کرتے ہیں۔ حیلے بہانے، اعتراضات، مطالبات اور کٹ حجتی نہیں کرتے۔ ایسے ہی لوگ اجر عظیم کے مستحق ہوتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے معایب بیان کیے تو اب ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو ان میں سے قابل تعریف ہیں۔ ﴿لٰكِنِ الرّٰؔسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور مومن ہیں یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں علم مضبوط اور ایقان راسخ ہے اور اس کے ثمرہ میں انھیں ایمان کامل حاصل ہوتا ہے ﴿ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَمَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی اور ان کتابوں پر جو آپ سے پہلے اتاری گئیں۔ یہ ایمان انھیں اعمال صالحہ کا پھل عطا کرتا ہے، مثلاً: نماز قائم کرنا اور زکٰوۃ ادا کرنا، یہ دونوں سب سے افضل اعمال ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں معبود کے لیے اخلاص اور اس کے بندوں کے لیے احسان پر مشتمل ہیں۔ وہ لوگ روز قیامت پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ بنابریں وہ اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈرتے ہیں اور اس کے وعدے پر امید رکھتے ہیں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا ہم عنقریب انھیں اجر عظیم سے نوازیں گے کیونکہ انھوں نے علم و ایمان، عمل صالح، گزشتہ اور آئندہ آنے والے انبیاء و مرسلین اور تمام کتب الہیہ پر ایمان کو جمع کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذَكَرَ معايب أهل الكتاب؛ ذَكَرَ الممدوحين منهم، فقال: {لكِن الراسخون في العلم}؛ أي: الذين ثَبَتَ العلم في قلوبهم ورَسَخَ الإيقان في أفئدتهم، فأثمر لهم الإيمان التامَّ العامَّ، {بما أُنزِلَ إليك وما أُنزِلَ من قبلك}: وأثمر لهم الأعمال الصالحة من إقامة الصَّلاة وإيتاء الزَّكاة اللَّذين هما أفضل الأعمال، وقد اشتملتا على الإخلاص للمعبود والإحسان إلى العبيد، وآمنوا باليوم الآخر، فخافوا الوعيد ورَجَوا الوعد، {أولئك سنؤتيهم أجراً عظيماً}؛ لأنَّهم جمعوا بين العلم والإيمان والعمل الصالح والإيمان بالكتب والرسل السابقة واللاحقة.