اور بلاشبہ اس نے تم پر کتاب میں نازل فرمایا ہے کہ جب تم اللہ کی آیات کو سنو کہ ان کے ساتھ کفر کیا جاتا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے تو ان کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں۔ بے شک تم بھی اس وقت ان جیسے ہو، بے شک اللہ منافقوں اور کافروں، سب کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔
En
اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں۔ ان کے پاس مت بیٹھو۔ ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں اکھٹا کرنے والا ہے
اور اللہ تعالیٰ تمہارے پاس اپنی کتاب میں یہ حکم اتار چکا ہے کہ تم جب کسی مجلس والوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں ان کے ساتھ نہ بیٹھو! جب تک کہ وه اس کے علاوه اور باتیں نہ کرنے لگیں، (ورنہ) تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو، یقیناً اللہ تعالیٰ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ کتاب میں کفر اور معاصی کی مجالس میں موجود ہونے کی صورت میں اپنا شرعی حکم واضح کر دیا ہے۔ ﴿ اَنْاِذَاسَمِعْتُمْاٰیٰتِاللّٰهِیُكْ٘فَرُبِهَاوَیُسْتَهْزَاُبِهَا﴾”کہ جب تم (کہیں) سنو کہ اللہ کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جارہی ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کی اہانت کی جا رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں ہر مکلف شخص پر فرض ہے کہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی تعظیم و تکریم کرے۔ ان کو نازل کرنے کا یہی مقصد ہے اور اسی کی خاطر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام کائنات تخلیق کی ہے۔ پس ان پر ایمان لانے کی ضد ان کے ساتھ کفر کرنا، اور ان کی تعظیم و تکریم کی ضد ان کے ساتھ استہزاء اور ان کی تحقیر کرنا ہے۔ نیز اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ابطال کے لیے کفار و منافقین کا مجادلہ اور ان کی اپنے کفر کی تائید کرنا بھی شامل ہے۔ اسی طرح ہر قسم کے بدعتی بھی داخل ہیں کیونکہ ان کا اپنے باطل نظریات کے لیے استدلال کرنا اللہ تعالیٰ کی آیات کی اہانت کو متضمن ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات حق کے سوا کسی چیز پر دلالت نہیں کرتیں اور صدق کے سوا کسی چیز کو مستلزم نہیں۔
اسی طرح اس حکم میں ان مجالس کی حاضری بھی شامل ہے جن میں فسق و فجور اور معصیت کے کام ہوتے ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی اہانت ہوتی ہے اور اس کی حدود توڑی جاتی ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کی ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھنے کی ممانعت کا منتہی ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿حَتّٰىیَخُوْضُوْافِیْحَدِیْثٍغَیْرِهٖۤ ﴾”حتی کہ وہ اور باتیں کرنے لگیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر اور استہزاء کے سوا کوئی اور بات کرنے لگیں ﴿اِنَّـكُمْاِذًا﴾”ورنہ تم بھی (ان ہی جیسے) ہوجاؤ گے۔“ یعنی اگر تم آیت کریمہ میں مذکور حالت میں ان کے ساتھ بیٹھو گے ﴿ مِّؔثْلُهُمْ ﴾”تو ان جیسے شمار ہو گے“ کیونکہ تم ان کے کفر و استہزاء پر راضی تھے۔ کسی معصیت کے فعل پر راضی ہونا اس فعل کے ارتکاب کی مانند ہے۔ اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی ایسی مجلس میں موجود ہو جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جا رہی ہو تو قدرت رکھتے ہوئے اس نافرمانی پر نکیر کرنا اور اس سے روکنا واجب ہے۔ اگر روکنے کی قدرت نہ ہو تو اس مجلس سے اٹھ کر چلا جانا ضروری ہے۔ ﴿ اِنَّاللّٰهَجَامِعُالْ٘مُنٰفِقِیْنَوَالْ٘كٰفِرِیْنَفِیْجَهَنَّمَجَمِيْعًا﴾”یقینا اللہ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے“ جیسے وہ اس دنیا میں کفر و موالات پر مجتمع ہیں۔
منافقین کو، ان کا ظاہری طور پر اہل ایمان کے ساتھ ہونا، کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ یَوْمَیَقُوْلُالْ٘مُنٰفِقُوْنَوَالْمُنٰفِقٰتُلِلَّذِیْنَاٰمَنُواانْ٘ظُ٘رُوْنَانَ٘قْ٘تَبِسْمِنْنُّوْرِكُمْ١ۚقِیْلَارْجِعُوْاوَرَآءَؔكُمْفَالْتَمِسُوْانُوْرًؔا١ؕفَضُرِبَبَیْنَهُمْبِسُوْرٍلَّهٗبَ٘ابٌؔ١ؕبَ٘اطِنُهٗفِیْهِالرَّحْمَةُوَظَاهِرُهٗمِنْقِبَلِهِالْعَذَابُؕ۰۰یُنَادُوْنَهُمْاَلَمْنَؔكُنْمَّعَكُمْ١ؕقَالُوْابَلٰىوَلٰكِنَّكُمْفَتَنْتُمْاَنْفُسَكُمْوَتَرَبَّصْتُمْوَارْتَبْتُمْوَغَ٘رَّتْكُمُالْاَمَانِیُّحَتّٰىجَآءَاَمْرُاللّٰهِوَغَرَّؔكُمْبِاللّٰهِالْ٘غَرُوْرُ۰۰فَالْیَوْمَلَایُؤْخَذُمِنْكُمْفِدْیَةٌوَّلَامِنَالَّذِیْنَكَفَرُوْا١ؕمَاْوٰىكُمُالنَّارُ١ؕهِیَمَوْلٰىكُمْ١ؕوَبِئْسَالْمَصِیْرُ ﴾ (الحدید: 57؍13۔15) ”اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے، ٹھہرو! ہم بھی تمھارے نور سے روشنی حاصل کر لیں! ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا جس کے اندرونی جانب رحمت ہو گی اور بیرونی جانب عذاب، منافق پکار پکار کر اہل ایمان سے کہیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں تم ہمارے ساتھ تو تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم حوادث زمانہ کے منتظر رہے، تم نے اسلام کے بارے میں شک کیا، جھوٹی آرزوؤں نے تمھیں دھوکے میں مبتلا کیے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا اور تمھیں شیطان دھوکے باز دھوکہ دیتا رہا۔ آج تم سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ تمھارا ٹھکانا جہنم ہے اور وہی تمھارا دوست ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: وقد بيَّن الله لكم فيما أنزل عليكم حكمه الشرعيَّ عند حضور مجالس الكفر والمعاصي، {أن إذا سمعتُم آياتِ الله يُكْفَرُ بها ويستهزَأ بها}؛ أي: يُستهان بها، وذلك أن الواجب على كل مكلَّف في آيات الله الإيمانُ بها وتعظيمُها وإجلالها وتفخيمها، وهذا المقصود بإنزالها، وهو الذي خَلَقَ الله الخَلْق لأجله؛ فضدُّ الإيمان الكفر بها، وضدُّ تعظيمها الاستهزاء بها واحتقارها، ويدخل في ذلك مجادلة الكفار والمنافقين لإبطال آيات الله ونصر كفرهم، وكذلك المبتدعون على اختلاف أنواعهم؛ فإن احتجاجَهم على باطلهم يتضمَّن الاستهانة بآيات الله؛ لأنها لا تدل إلاَّ على الحقِّ ولا تستلزمُ إلاَّ صدقاً، بل وكذلك يدخل فيه حضور مجالس المعاصي والفسوق التي يُستهان فيها بأوامر الله ونواهيه، وتقتحم حدودُه التي حدَّها لعباده. ومنتهى هذا النهي عن القعود معهم {حتى يخوضوا في حديثٍ غيره}؛ أي: غير الكفر بآيات الله والاستهزاء بها. {إنَّكم إذاً}؛ أي: إن قعدتُم معهم في الحال المذكور {مثلُهم}: لأنكم رضيتُم بكفرِهم واستهزائِهِم، والراضي بالمعصية كالفاعل لها، والحاصل أنَّ مَن حَضَرَ مجلساً يُعصى الله به؛ فإنه يتعيَّن عليه الإنكار عليهم مع القدرة أو القيام مع عدمها.
{إنَّ الله جامع المنافقين والكافرين في جهنَّم جميعاً}؛ كما اجتمعوا على الكفر والموالاة، ولا ينفع المنافقين مجرَّد كونِهم في الظاهر مع المؤمنين؛ كما قال تعالى: {يوم يقولُ المنافقون والمنافقاتُ للَّذين آمنوا انظُرونا نَقْتَبِسْ من نورِكم ... } إلى آخر الآيات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔