تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 107

وَ لَا تُجَادِلۡ عَنِ الَّذِیۡنَ یَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ خَوَّانًا اَثِیۡمًا ﴿۱۰۷﴾ۚۙ
اور ان لوگوں کی طرف سے جھگڑا نہ کر جو اپنی جانوں سے خیانت کرتے ہیں، یقینا اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو ہمیشہ بہت خائن، سخت گناہ گار ہو۔ En
اور لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ خدا خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا
En
اور ان کی طرف سے جھگڑا نہ کرو جو خود اپنی ہی خیانت کرتے ہیں، یقیناً دغا باز گنہگار اللہ تعالیٰ کو اچھا نہیں لگتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ اور آپ ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں (الاخْتِیَانُ) اور (اَلْخِیَانَۃُ) جرم، ظلم اور گناہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں اس شخص کی طرف سے جھگڑنا بھی شامل ہے جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہے جس میں کوئی حد یا تعزیر لازم آتی ہو۔ اس شخص سے جو خیانت وغیرہ صادر ہوئی ہے اس کی مدافعت میں یا اس کو شرعی عقوبت سے بچانے کے لیے اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کیا جائے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًا کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو نہایت کثرت سے خیانت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب محبت کی نفی ہو جائے تو اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے اور محبت کی ضد بغض ہے۔ آیت کریمہ کی ابتدا میں مذکور ممانعت کے لیے یہ چیز تعلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولا تجادِلْ عن الذين يختانون أنفسَهم}: الاختيانُ والخيانةُ بمعنى الجنايةِ والظُّلم والإثم، وهذا يَشْمَلُ النهي عن المجادلة عن من أذنب وتُوَجَّهُ عليه عقوبةٌ من حدٍّ أو تعزيرٍ؛ فإنَّه لا يجادل عنه بدفع ما صدر منه من الخيانة أو بدفع ما ترتَّب على ذلك من العقوبة الشرعية. {إنَّ الله لا يحبُّ مَن كان خوَّاناً أثيماً}؛ أي: كثير الخيانة والإثم، وإذا انتفى الحبُّ؛ ثبتَ ضدُّه، وهو البغض، وهذا كالتعليل للنهي المتقدم.