وہ لوگوں سے چھپائو کرتے ہیں اور اللہ سے چھپائو نہیں کرتے، حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ رات کو اس بات کا مشورہ کرتے ہیں جسے وہ پسند نہیں کرتا اور اللہ ہمیشہ اس کا جو وہ کرتے ہیں، احاطہ کرنے والا ہے۔
En
یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپتے حالانکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کے مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہیں کرتا ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا ان کے (تمام) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے
وه لوگوں سے تو چھﭗ جاتے ہیں، (لیکن) اللہ تعالیٰ سے نہیں چھﭗ سکتے، وه راتوں کے وقت جب کہ اللہ کی ناپسندیده باتوں کے خفیہ مشورے کرتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کے پاس ہوتا ہے، ان کے تمام اعمال کو وه گھیرے ہوئے ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر ان خائن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا: ﴿ یَّسْتَخْفُوْنَمِنَالنَّاسِوَلَایَسْتَخْفُوْنَمِنَاللّٰهِوَهُوَمَعَهُمْاِذْیُبَیِّتُوْنَمَالَایَرْضٰىمِنَالْقَوْلِ ﴾”وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ راتوں کے وقت وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں“ یہ ایمان کی کمزوری اور یقین کی کمی ہے کہ ان کے نزدیک مخلوق کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ وہ مباح اور حرام ہر طریقے سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کی فضیحت نہ ہو ...بایں ہمہ...ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے ان کے تمام احوال میں ان کے ساتھ ہے خاص طور پر جب وہ رات کے وقت مجرم کی براء ت اور بے گناہ پر جرم کے الزام کے بارے میں باتیں اور سازشیں کرتے ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ان سازشوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا مگر انھیں اللہ کا خوف نہ آیا جو زمین و آسمان کا رب ہے، جو ان کے بھیدوں اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿ وَكَانَاللّٰهُبِمَایَعْمَلُوْنَمُحِیْطًا ﴾”اور اللہ ان کے تمام کاموں پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی ان کو توبہ کا موقع دیا اور ان کو ان گناہوں پر اصرار کرنے پر ڈرایا جو بہت بڑی سزا کے موجب ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر عن هؤلاء الخائنين أنهم {يَسْتَخْفونَ من الناس ولا يَسْتَخْفونَ من الله وهو معهم إذ يُبَيِّتونَ ما لا يرضى من القول}: وهذا من ضَعْف الإيمان ونقصان اليقين أن تكونَ مخافةُ الخلق عندَهم أعظمَ من مخافةِ الله فيحرصون بالطرق المباحة والمحرَّمة على عدم الفضيحة عند الناس، وهُم مع ذلك قد بارزوا الله بالعظائم، ولم يبالوا بنظرِهِ واطِّلاعه عليهم، وهو معهم بالعلم في جميع أحوالهم، خصوصاً في حال تبييتِهِم ما لا يُرضيه من القول من تبرئة الجاني ورمي البريء بالجناية والسعي في ذلك للرسول - صلى الله عليه وسلم - ليفعلَ ما بيَّتوه؛ فقد جَمَعَوا بين عدَّة جنايات، ولم يُراقبوا ربَّ الأرض والسماوات المطَّلع على سرائِرِهم وضمائِرِهم، ولهذا توعَّدهم تعالى بقوله: {وكان الله بما يعملونَ محيطاً}؛ أي: قد أحاط بذلك علماً، ومع هذا لم يعاجِلْهم بالعقوبة، بل استأنى بهم، وعَرَضَ عليهم التوبةَ، وحذَّرهم من الإصرارِ على ذَنْبِهِم الموجب للعقوبة البليغة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔