تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تو فرمان ہوتا ہے کہ اپنی ہر حالت میں اللہ عزوجل کا ذکر کرتے رہو، اور جب اطمینان حاصل ہو جائے ڈر خوف نہ رہے تو باقاعدہ خشوع خضوع سے ارکان نماز کو پابندی کے مطابق شرع بجا لاؤ، نماز پڑھنا وقت مقررہ پر منجانب اللہ فرض عین ہے، جس طرح حج کا وقت معین ہے اسی طرح نماز کا وقت بھی مقرر ہے، ایک وقت کے بعد دوسرا پھر دوسرے کے بعد تیسرا۔
پھر فرماتا ہے دشمنوں کی تلاش میں کم ہمتی نہ کرو چستی اور چالاکی سے گھات کی جگہ بیٹھ کر ان کی خبر لو، اگر قتل و زخم ونقصان تمہیں پہنچتا ہے تو کیا انہیں نہیں پہنچتا؟ اسی مضمون کو ان الفاظ میں بھی ادا کیا گیا ہے «إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ» ۱؎ [3-آل عمران:140]
پس مصیبت اور تکلیف کے پہنچنے میں تم اور وہ برابر ہیں، لیکن بہت بڑا فرق یہ ہے کہ تمہیں ذات عزاسمہ سے وہ اُمیدیں اور وہ آسرے ہیں جو انہیں نہیں، تمہیں اجر و ثواب بھی ملے گا تمہاری نصرت و تائید بھی ہو گی، جیسے کہ خود باری تعالیٰ نے خبر دی ہے اور وعدہ کیا، نہ اس کی خبر جھوٹی نہ اس کے وعدے ٹلنے والے۔
پس تمہیں بہ نسبت ان کے بہت تگ و دو چاہیئے تمہارے دلوں میں جہاد کا ولولہ ہونا چاہیئے، تمہیں اس کی رغبت کامل ہونی چاہیئے، تمہارے دلوں میں اللہ کے کلمے کو مستحکم کرنے توانا کرنے پھیلانے اور بلند کرنے کی تڑپ ہر وقت موجود رہنی چاہیئے اللہ تعالیٰ جو کچھ مقرر کرتا ہے جو فیصلہ کرتا ہے جو جاری کرتا ہے جو شرع مقرر کرتا ہے جو کام کرتا ہے سب میں پوری خبر کا مالک صحیح اور سچے علم والا ساتھ ہی حکمت والا بھی ہے، ہر حال میں ہر وقت سزاوار تعریف و حمد وہی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: لا تضعُفوا ولا تكسلوا في ابتغاء عدوِّكم من الكفَّار؛ أي: في جهادهم والمرابطة على ذلك؛ فإنَّ وَهَنَ القلب مستدعٍ لوَهَن البدن، وذلك يضعف عن مقاومة الأعداء، بل كونوا أقوياء نشيطين في قتالهم. ثم ذكر ما يقوِّي قلوب المؤمنين، فذكر شيئين:
الأول: أنَّ ما يصيبكم من الألم والتعب والجراح ونحو ذلك؛ فإنه يصيب أعداءكم، فليس من المروءة الإنسانيَّة والشهامة الإسلاميَّة أن تكونوا أضعفَ منهم وأنتم وهم قد تساوَيْتم فيما يوجِبُ ذلك؛ لأنَّ العادة الجارية أنه لا يَضْعُفُ إلاَّ من توالت عليه الآلام، وانتصر عليه الأعداء على الدوام، لا مَن يُدال مرةً ويُدال عليه أخرى.
الأمر الثاني: أنكم ترجونَ من الله ما لا يرجون، فترجون الفوز بثوابِهِ والنجاة من عقابه، بل خواصُّ المؤمنين لهم مقاصدُ عاليةٌ وآمال رفيعةٌ من نصر دين الله وإقامة شرعه واتِّساع دائرة الإسلام وهداية الضالِّين وقمع أعداء الدين؛ فهذه الأمور توجب للمؤمن المصدق زيادة القوة وتضاعف النشاط والشجاعة التامَّة؛ لأنَّ من يقاتل ويصبر على نيل عزِّه الدُّنيويِّ إن ناله ليس كمن يقاتِلُ لنيل السعادة الدنيويَّة والأخرويَّة والفوز برضوان الله وجنَّته؛ فسبحان من فاوت بين العباد وفرَّق بينهم بعلمِهِ وحكمتِهِ، ولهذا قال: {وكان الله عليماً حكيماً}: كامل العلم كامل الحكمةِ.