تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 61

وَ یُنَجِّی اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا بِمَفَازَتِہِمۡ ۫ لَا یَمَسُّہُمُ السُّوۡٓءُ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۱﴾
اور اللہ ان لوگوں کو جو ڈر گئے، ان کے کامیاب ہونے کی وجہ سے نجات دے گا، نہ انھیں برائی پہنچے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ En
اور جو پرہیزگار ہیں ان کی (سعادت اور) کامیابی کے سبب خدا ان کو نجات دے گا نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ غمناک ہوں گے
En
اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی انہیں اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کے ساتھ بچا لے گا، انہیں کوئی دکھ چھو بھی نہ سکے گا اور نہ وه کسی طرح غمگین ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

متکبرین کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا حال بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَیُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ اور جو پرہیز گار ہیں ان کی کامیابی کے سبب اللہ ان کو نجات دے گا۔ کیونکہ ان کے پاس آلۂ نجات یعنی تقویٰ ہو گا جو ہر شدت اور ہولناکی کے وقت بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ ﴿لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ یعنی تکلیف دہ عذاب انھیں چھوئے گا نہیں۔ ﴿وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ اوروہ غمگین نہیں ہوں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب اور خوف کی نفی کر دی اور یہ ا من کی انتہا ہے۔ ان کے لیے مکمل امن ہو گا اور یہ امن ان کے ساتھ رہے گا یہاں تک کہ وہ سلامتی کے گھر یعنی جنت میں داخل ہو جائیں گے تب وہ ہر تکلیف اور ہر برائی سے محفوظ و مامون ہوں گے اور ان پر نعمتوں کی تازگی چھا جائے گی اور وہ پکار اٹھیں گے: ﴿ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُ (فاطر: 35؍34)ہر قسم کی تعریف ہے اس ذات کے لیے جس نے ہم سے حزن و غم کو دور کیا بلاشبہ ہمارا رب بخشنے والا قدردان ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذَكَرَ حالَةَ المتكبِّرين؛ ذَكَرَ حالةَ المتَّقين، فقال: {وَيُنَجِّي الله الذين اتَّقَوْا بمفازَتِهم}؛ أي: بنجاتهم، وذلك لأنَّ معهم آلةَ النجاةِ، وهو تقوى الله تعالى، التي هي العُدَّةُ عند كلِّ هول وشدَّة. {لا يَمَسُّهُم السوءُ}؛ أي: العذاب الذي يسوؤُهم، {ولا هُم يَحْزَنونَ}: فنفَى عنهم مباشرةَ العذابِ وخوفَه، وهذا غايةُ الأمان؛ فلهم الأمنُ التامُّ يصحَبُهم حتى يوصِلَهم إلى دار السلام؛ فحينئذٍ يأمَنون من كلِّ سوءٍ ومكروهٍ، وتجري عليهم نَضْرَةُ النعيم، ويقولون: الحمدُ لله الذي أذْهَبَ عنَّا الحزن، إنَّ ربَّنا لغفورٌ شكورٌ.