تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
متکبرین کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا حال بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَیُنَجِّیاللّٰهُالَّذِیْنَاتَّقَوْابِمَفَازَتِهِمْ ﴾”اور جو پرہیز گار ہیں ان کی کامیابی کے سبب اللہ ان کو نجات دے گا۔“ کیونکہ ان کے پاس آلۂ نجات یعنی تقویٰ ہو گا جو ہر شدت اور ہولناکی کے وقت بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ ﴿لَایَمَسُّهُمُالسُّوْٓءُ ﴾ یعنی تکلیف دہ عذاب انھیں چھوئے گا نہیں۔ ﴿وَلَاهُمْیَحْزَنُوْنَ ﴾”اوروہ غمگین نہیں ہوں گے۔“ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب اور خوف کی نفی کر دی اور یہ ا من کی انتہا ہے۔ ان کے لیے مکمل امن ہو گا اور یہ امن ان کے ساتھ رہے گا یہاں تک کہ وہ سلامتی کے گھر یعنی جنت میں داخل ہو جائیں گے تب وہ ہر تکلیف اور ہر برائی سے محفوظ و مامون ہوں گے اور ان پر نعمتوں کی تازگی چھا جائے گی اور وہ پکار اٹھیں گے: ﴿ الْحَمْدُلِلّٰهِالَّذِیْۤاَذْهَبَعَنَّاالْحَزَنَ١ؕاِنَّرَبَّنَالَغَفُوْرٌشَكُوْرُ ﴾ (فاطر: 35؍34)”ہر قسم کی تعریف ہے اس ذات کے لیے جس نے ہم سے حزن و غم کو دور کیا بلاشبہ ہمارا رب بخشنے والا قدردان ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما ذَكَرَ حالَةَ المتكبِّرين؛ ذَكَرَ حالةَ المتَّقين، فقال: {وَيُنَجِّي الله الذين اتَّقَوْا بمفازَتِهم}؛ أي: بنجاتهم، وذلك لأنَّ معهم آلةَ النجاةِ، وهو تقوى الله تعالى، التي هي العُدَّةُ عند كلِّ هول وشدَّة. {لا يَمَسُّهُم السوءُ}؛ أي: العذاب الذي يسوؤُهم، {ولا هُم يَحْزَنونَ}: فنفَى عنهم مباشرةَ العذابِ وخوفَه، وهذا غايةُ الأمان؛ فلهم الأمنُ التامُّ يصحَبُهم حتى يوصِلَهم إلى دار السلام؛ فحينئذٍ يأمَنون من كلِّ سوءٍ ومكروهٍ، وتجري عليهم نَضْرَةُ النعيم، ويقولون: الحمدُ لله الذي أذْهَبَ عنَّا الحزن، إنَّ ربَّنا لغفورٌ شكورٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔