تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 55

وَ اتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَۃً وَّ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾
اور اس سب سے اچھی بات کی پیروی کرو جو تمھارے رب کی جانب سے تمھاری طرف نازل کی گئی ہے، اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم سوچتے بھی نہ ہو۔ En
اور اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو اس نہایت اچھی (کتاب) کی جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے پیروی کرو
En
اور پیروری کرو اس بہترین چیزکی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

گویا کہ پوچھا گیا کہ انابت اور اسلام کیا ہیں،ان کی جزئیات و اعمال کیا ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿وَاتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ اور پیروی کرو ان بہترین باتوں کی جو نازل کی گئیں تمھاری طرف تمھارے پروردگار کی طرف سے۔ یعنی باطنی اعمال کو بجا لاؤ جن کا تمھیں حکم دیا گیا ہے، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، اس کے بندوں کی خیرخواہی، ان کے لیے ہمیشہ بھلائی چاہنا اور ان امور سے متضاد امور سے اجتناب اور ظاہری اعمال بجالانا، مثلاً: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا، صدقہ دینا اور بھلائی کے مختلف کام کرنا جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہی بہترین کام ہیں جن کو ہمارے رب نے ہماری طرف نازل فرمایا ہے، لہٰذا ان امور میں اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرنے والا منیب اور مسلم ہے۔ ﴿مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّاَنْتُمْ لَا تَ٘شْ٘عُرُوْنَ اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔ اور یہ سب کچھ جلدی کرنے اور فرصت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فكأنه قيل: ما هي الإنابةُ والإسلامُ، وما جزئياتُها وأعمالها؟ فأجاب تعالى بقوله: {واتَّبِعوا أحسنَ ما أُنزِلَ إليكم مِن ربِّكُم}: مما أمَرَكم من الأعمال الباطنةِ؛ كمحبَّة الله وخشيَتِهِ وخوفِهِ ورجائِهِ والنصح لعبادِهِ ومحبَّة الخير لهم وتركِ ما يضادُّ ذلك، ومن الأعمال الظاهرة؛ كالصلاة والزكاة [والصيام] والحجِّ والصدقةِ وأنواع الإحسان ونحو ذلك مما أمَرَ الله به، وهو أحسنُ ما أُنْزِلَ إلينا من ربِّنا، فالمتتبِّع لأوامر ربِّه في هذه الأمور ونحوها هو المنيبُ المسلمُ {من قَبْلِ أن يأتِيَكُمُ العذابُ بغتةً وأنتم لا تشعرُونَ}: وكلُّ هذا حثٌّ على المبادرةِ وانتهازِ الفرصة.