تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 54

وَ اَنِیۡبُوۡۤا اِلٰی رَبِّکُمۡ وَ اَسۡلِمُوۡا لَہٗ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴿۵۴﴾
اور اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ اور اس کے مطیع ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے، پھر تمھاری مدد نہیں کی جائے گی۔ En
اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو، اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار ہوجاؤ پھر تم کو مدد نہیں ملے گی
En
تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آ جائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے حصول کے کچھ اسباب ہیں، بندہ اگر ان اسباب کو اختیار نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ پر عظیم ترین اور جلیل ترین رحمت و مغفرت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ بلکہ خالص توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، دعا، اس کے سامنے عاجزی و انکسار اور اظہار تعبد کے سوا کوئی سبب نہیں۔ پس اس جلیل القدر سبب اور اس عظیم راستے کی طرف بڑھو۔
بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف انابت میں جلدی کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَاَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔ یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو ﴿وَاَسْلِمُوْا لَهٗ اور اپنے اپنے جوارح کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ اگر انابت کو مفرد بیان کیا گیا ہو تو اس میں اعمال جوارح بھی داخل ہیں اور اگر انابت کو دوسرے امور کے ساتھ بیان کیا گیا ہو جیسا کہ اس مقام پر کیا گیا ہے تو اس کا معنیٰ وہی ہو گا جو ہم نے بیان کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِلٰى رَبِّكُمْ وَاَسْلِمُوْا لَهٗ اخلاص پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اخلاص کے بغیر ظاہری اور باطنی اعمال کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ﴿مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو۔ اور اسے روکا نہ جا سکے گا ﴿ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ پھر اس عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكنْ لمغفرتِهِ ورحمتِهِ ونَيْلِهِما أسبابٌ؛ إنْ لم يأتِ بها العبدُ؛ فقدْ أغلقَ على نفسه بابَ الرحمةِ والمغفرة، أعظمُها وأجلُّها ـ بل لا سببَ لها غيره ـ الإنابةُ إلى الله تعالى بالتوبةِ النصوح، والدُّعاءُ والتضرُّعُ والتألُّهُ والتعبُّدُ؛ فهلمَّ إلى هذا السبب الأجلِّ والطريق الأعظم، ولهذا أمَرَ تعالى بالإنابة إليه والمبادرةِ إليها، فقال: {وأنيبوا إلى ربِّكُم}: بقلوبِكم، {وأسْلِموا له}: بجوارِحِكم، إذا أُفْرِدَتِ الإنابةُ؛ دخلتْ فيها أعمالُ الجوارح، وإذا جُمِعَ بينَهما كما في هذا الموضع؛ كان المعنى ما ذكرنا. وفي قوله: {إلى ربِّكُم وأسْلِموا له}: دليلٌ على الإخلاص، وأنَّه من دون إخلاص لا تفيدُ الأعمالُ الظاهرةُ والباطنةُ شيئاً {من قبل أن يأتِيَكُمُ العذابُ}: مجيئاً لا يُدْفَع، {ثم لا تُنصَرونَ}.