تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قَدْقَالَهَاالَّذِیْنَمِنْقَبْلِهِمْ ﴾ یعنی ان سے پہلے لوگ بھی یہی کہتے تھے، یعنی ان کا یہ مقولہ: ﴿اِنَّمَاۤاُوْتِیْتُهٗعَلٰىعِلْمٍ ﴾ اہل تکذیب کے ہاں ہمیشہ سے متوارث چلا آرہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہیں نہ اس کا کوئی حق سمجھتے ہیں۔ گزشتہ لوگوں کی یہی عادت رہی یہاں تک کہ ان کو ہلاک کر دیا گیا ﴿فَمَاۤاَغْ٘نٰىعَنْهُمْمَّاكَانُوْایَكْ٘سِبُوْنَ﴾ جب ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے پکڑا تو ان کی کمائی ان کے کسی کام نہ آئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال تعالى: {قد قالَها الذين من قَبْلِهِم}؛ أي: قولهم: {إنَّما أوتيتُهُ على علم}؛ فما زالت متوارثةً عند المكذِّبين، لا يقرُّون بنعمةِ ربِّهم، ولا يَرَوْنَ له حقًّا، فلم يزل دأبُهم حتى أهْلِكوا، ولم يغنِ {عنهم ما كانوا يكسِبونَ}: حين جاءهم العذابُ!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔