تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 51

فَاَصَابَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا ؕ وَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ ہٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیۡبُہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا ۙ وَ مَا ہُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۵۱﴾
تو ان پر ان (اعمال) کے وبال آپڑے جو انھوں نے کمائے اور وہ لوگ جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا ان پر بھی جلد ہی ان (اعمال) کے وبال آ پڑیں گے جو انھوں نے کمائے اور وہ ہرگز عاجز کرنے والے نہیں ہیں۔ En
ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑ گئے۔ اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں ان پر ان کے عملوں کے وبال عنقریب پڑیں گے۔ اور وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے
En
پھر ان کی تمام برائیاں ان پر آ پڑیں، اوران میں سے بھی جو گناه گار ہیں ان کی کی ہوئی برائیاں بھی اب ان پر آ پڑیں گی، یہ (ہمیں) ہرا دینے والے نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑ گئے۔ اس مقام پر (سیئات) سے مراد عقوبات ہیں کیونکہ یہ عقوبات ہی انسان کے لیے تکلیف دہ اور اس کو غم زدہ کرتی ہیں۔ ﴿وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں عنقریب ان پر ان کے عملوں کے وبال پڑیں گے۔ پس یہ لوگ نہ تو گزشتہ لوگوں سے بہتر ہیں اور نہ ان کو کوئی براء ت نامہ ہی لکھ کر دیا گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأصابَهم سيئاتُ ما كَسَبوا}: والسيئاتُ في هذا الموضع العقوباتُ؛ لأنَّها تَسوءُ الإنسانَ وتُحْزِنُه. {والذين ظلموا من هؤلاء سَيصيبُهم سيئاتُ ما كَسَبوا}: فليسوا خيراً من أولئك، ولم يُكْتَبْ لهم براءةٌ في الزُّبُر.