تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 49

فَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ۫ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰہُ نِعۡمَۃً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ ؕ بَلۡ ہِیَ فِتۡنَۃٌ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۹﴾
پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو کہتا ہے یہ مجھے ایک علم کی بنیاد ہی پر دی گئی ہے۔ بلکہ وہ ایک آزمائش ہے اور لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ En
جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے۔ (نہیں) بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے
En
انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں، بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ انسان کے حال اور اس کی فطرت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ جب اسے کوئی بیماری، شدت یا تکلیف پہنچتی ہے ﴿دَعَانَا تو وہ اس نازل ہونے والی مصیبت کو دور کرنے کے لیے گڑگڑا کر ہمیں پکارتا ہے۔ ﴿ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّؔنَّا پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کر دیتے ہیں یعنی جب ہم اس کی تکلیف کو دور اور اس کی مشقت کو زائل کر دیتے ہیں تو وہ اپنے رب کی ناسپاسی اور اس کے احسان کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور ﴿قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ کہتا ہے: مجھے تو یہ سب کچھ علم کے سبب دیا گیا ہے یعنی اللہ کی طرف سے علم کی بنا پر حاصل ہواہے اور میں اس کا اہل اور اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں اس کے ہاں بہت برگزیدہ ہوں،یا اس کا معنی یہ ہے کہ یہ سب کچھ مجھے مختلف طریقوں سے حاصل کیے گئے میرے علم کے سبب سے مجھے عطا ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ بلکہ یہ ایک فتنہ ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس کا شکر گزار ہے اور کون اس کی ناشکری کرتا ہے۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ اس لیے وہ فتنہ اور آزمائش کو اللہ تعالیٰ کی نوازش سمجھتے ہیں، ان کے سامنے خالص بھلائی اس چیز کے ساتھ مشتبہ ہو جاتی ہے جو بھلائی یا برائی کا سبب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن حالة الإنسان وطبيعته أنَّه حين يَمَسُّه ضرٌّ من مرض أو شدَّة أو كربٍ، {دعانا}: ملحًّا في تفريج ما نَزَلَ به، {ثم إذا خَوَّلْناه نعمةً مِنَّا}: فكشفنا ضُرَّه، وأزَلْنا مَشَقَّتَه؛ عاد بربِّه كافراً ولمعروفه منكراً، و {قال إنَّما أوتيتُهُ على علم}؛ أي: علم من الله أنِّي له أهلٌ وأنِّي مستحقٌّ له؛ لأني كريم عليه، أو على علم منِّي بطُرُق تحصيله، قال تعالى: {بل هي فتنةٌ}: يبتلي اللهُ به عبادَه لينظُرَ من يَشْكُرُه ممَّن يكفُرُه. {ولكنَّ أكثرَهم لا يعلمونَ}: فلذلك يعدُّون الفتنة منحةً، ويشتبهُ عليهم الخيرُ المحضُ بما قد يكون سبباً للخير أو للشرِّ.