تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 48

وَ بَدَا لَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور ان کے لیے ان (اعمال) کی برائیاں ظاہر ہو جائیں گی جو انھوں نے کمائے اور انھیں وہ چیز گھیر لے گی جسے وہ مذاق کیا کرتے تھے۔ En
اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اُڑاتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا
En
جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس کی برائیاں ان پر کھل پڑیں گی اور جس کا وه مذاق کرتے تھے اور وه انہیں آ گھیرے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَبَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ اور ان پر اللہ کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا انھیں خیال بھی نہ تھا۔ یعنی اس بہت بڑی ناراضی کا تو انھیں گمان تک نہ تھا وہ تو اپنے بارے میں اس کے برعکس فیصلے کرتے رہے تھے۔
﴿وَبَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا یعنی ان کے کرتوتوں کے سبب ان پر وہ امور ظاہر ہوں گے جو ان کو بہت برے لگیں گے ﴿وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ اور وہ عذاب اور وعید جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے، وہ ان پر آنازل ہوگی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وبدا لهم سيئاتُ ما كَسَبوا}؛ أي: الأمور التي تسوؤُهُم بسبب صَنيعهم وكَسْبِهِم، {وحاق بهم ما كانوا به يستهزِئونَ}: من الوعيدِ والعذابِ، نزلَ بهم، وحلَّ عليهم العقابُ.