تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 35

لِیُکَفِّرَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا وَ یَجۡزِیَہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۳۵﴾
تاکہ اللہ ان سے وہ بد ترین عمل دور کر دے جو انھوں نے کیے اور انھیں ان کا اجر ان بہترین اعمال کے مطابق دے جو وہ کیا کرتے تھے۔ En
تاکہ خدا ان سے برائیوں کو جو انہوں نے کیں دور کردے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے ان کو بدلہ دے
En
تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کردے اور جو نیک کام انہوں نے کیے ہیں ان کا اچھا بدلہ عطا فرمائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لِیُكَ٘ـفِّ٘رَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَیَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ تاکہ اللہ ان سے برائیوں کو جو انھوں نے کیں دور کرے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے بہتر بدلہ دے۔ انسانی عمل کے تین احوال ہیں: اول: بدترین عمل۔دوم: بہترین عمل۔ سوم: نہ برا نہ اچھا۔
یہ آخری قسم مباحات کے زمرے میں آتی ہے، جن پر کوئی ثواب وعقاب مترتب نہیں ہوتا۔ بدترین اعمال سب معاصی اور بہترین اعمال سب نیکیاں ہیں۔ اس تفصیل سے آیت کریمہ کا معنی واضح ہو جاتا ہے۔ فرمایا: ﴿لِیُكَ٘ـفِّ٘رَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا یعنی ان کے تقویٰ اور احسان کے سبب سے ان کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دے گا۔ ﴿وَیَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ یعنی ان کی نیکیوں اور تقویٰ کے سبب سے ان کو ان کی تمام نیکیوں کا اجر ملے گا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا (النساء:4؍40) اللہ کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتااگر نیکی ہو تو وہ اسے دوگنا کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لِيُكَفِّرَ اللهُ عنهم أسوأ الذي عَمِلوا ويَجْزِيَهم أجْرَهُم بأحسن الذي كانوا يعملونَ}: عملُ الإنسانِ له ثلاثُ حالاتٍ: إمَّا أسوأ، أو أحسن، أو لا أسوأ ولا أحسن، والقسمُ الأخيرُ قسمُ المباحات وما لا يتعلَّق به ثوابٌ ولا عقابٌ، والأسوأ المعاصي كلُّها، والأحسنُ الطاعاتُ كلُّها. فبهذا التفصيل يتبيَّن معنى الآيةِ، وأنَّ قولَه {لِيُكَفِّرَ الله عنهم أسوأ الذي عَمِلوا}؛ أي: ذنوبهم الصغارَ والكبار بسبب إحسانِهِم وتقواهم، {ويَجْزِيَهم أجْرَهم بأحسنِ الذي كانوا يعملون}؛ أي: بحسناتِهِم كلِّها، {إنَّ الله لا يَظْلِمُ مثقالَ ذَرَّةٍ وإن تَكُ حسنةً يضاعِفْها ويُؤْتِ من لَدُنْه أجراً عظيماً}.