تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿لَهُمْمَّایَشَآءُوْنَعِنْدَرَبِّهِمْ ﴾”وہ جو چاہیں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے۔“ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ایسا ثواب ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے حاشیۂ خیال میں اس کا کبھی گزر ہوا ہے۔ لذات و خواہشات میں سے جس چیز کا بھی ارادہ کریں گے وہ ان کو حاصل ہو گی اور ان کو مہیا کر دی جائے گی۔ ﴿ذٰلِكَجَزٰٓؤُاالْمُحْسِنِیْنَ﴾”نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے۔“ یہ وہ لوگ ہیں جو اس کیفیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان میں یہ کیفیت نہ ہو تو انھیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ ﴿الْمُحْسِنِیْنَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لهم ما يشاؤون عند ربِّهم}: من الثواب مما لا عينٌ رأتْ، ولا أذنٌ سمعتْ، ولا خَطَرَ على قلبِ بشرٍ؛ فكلُّ ما تعلَّقت به إرادتُهم ومشيئتُهم من أصناف اللذَّاتِ والمشتهياتِ؛ فإنَّه حاصلٌ لهم معدٌّ مهيَّأ. {ذلك جزاء المحسنين}: الذين يعبُدون الله كأنَّهم يَرَوْنَه؛ فإنْ لم يكونوا يَرَوْنَه؛ فإنَّه يراهم، المحسنين إلى عباد الله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔