(آیت 34) ➊ {لَهُمْمَّايَشَآءُوْنَعِنْدَرَبِّهِمْ:} چونکہ وہ دنیا میں وہ کام کر تے رہے جو ان کا رب چاہتا تھا، اس لیے اس کے بدلے میں رب تعالیٰ کے ہاں انھیں وہ کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے، فرمایا: «هَلْجَزَآءُالْاِحْسَانِاِلَّاالْاِحْسَانُ» [الرحمٰن: ۶۰]”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے۔“ ➋ { ذٰلِكَجَزٰٓؤُاالْمُحْسِنِيْنَ:} یہاں کچھ عبارت محذوف ہے: {”لِأَنَّهُمْكَانُوْامُحْسِنِيْنَ“} کیونکہ وہ نیکی کرنے والے تھے اور نیکی کرنے والوں کی یہی جزا ہے۔ ”احسان“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۵۸)، یوسف (۳۶) اور قصص (۱۴ اور ۷۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
34۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بھی معاف فرما دے گا، ان کے درجے بھی بلند فرمائے گا، کیونکہ ہر مسلمان کی اللہ سے یہی خواہش ہوتی ہے علاوہ ازیں جنت میں جانے کے بعد ہر مطلوب چیز بھی ملے گی۔ 34۔2 محسنین کا ایک مفہوم تو یہ ہے جو نیکیاں کرنے والے ہیں دوسرا وہ جو اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں جیسے حدیث میں احسان کی تعریف کی گئی ہے ان تعبد اللہ کانک تراہ فانہ لم تکن تراہ فانہ یراک تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ تصور ممکن نہ ہو تو یہ ضرور ذہن میں رہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے تیسرا جو لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کرتے ہیں چوتھا ہر نیک عمل کو اچھے طریقے سے خشوع و خضوع سے اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کرتے ہیں کثرت کے بجائے اس میں حسن کا خیال رکھتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
34۔ وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں موجود [50] ہے۔ نیکی کرنے والوں کا یہی بدلہ ہے
[50] ہر انسان موت کے دروازے پر پہنچتے ہی اپنے پروردگار کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ لہٰذا اللہ کے انعامات کا سلسلہ یہیں سے شروع ہو جاتا ہے اور دخول جنت سے پہلے کافی مراحل ہیں جہاں ایسے متقین پر اللہ کی عنایات ہوں گی۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی خواہشات پوری فرمائے گا۔ مثلاً وہ چاہیں گے کہ عذاب قبر سے بھی محفوظ رہیں اور روز قیامت کی ہولناکیوں اور حساب و کتاب میں سختی سے بھی تو ان کی ایسی خواہشات پوری کی جائیں گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿لَهُمْمَّایَشَآءُوْنَعِنْدَرَبِّهِمْ ﴾”وہ جو چاہیں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے۔“ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ایسا ثواب ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے حاشیۂ خیال میں اس کا کبھی گزر ہوا ہے۔ لذات و خواہشات میں سے جس چیز کا بھی ارادہ کریں گے وہ ان کو حاصل ہو گی اور ان کو مہیا کر دی جائے گی۔ ﴿ذٰلِكَجَزٰٓؤُاالْمُحْسِنِیْنَ﴾”نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے۔“ یہ وہ لوگ ہیں جو اس کیفیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان میں یہ کیفیت نہ ہو تو انھیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ ﴿الْمُحْسِنِیْنَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لهم ما يشاؤون عند ربِّهم}: من الثواب مما لا عينٌ رأتْ، ولا أذنٌ سمعتْ، ولا خَطَرَ على قلبِ بشرٍ؛ فكلُّ ما تعلَّقت به إرادتُهم ومشيئتُهم من أصناف اللذَّاتِ والمشتهياتِ؛ فإنَّه حاصلٌ لهم معدٌّ مهيَّأ. {ذلك جزاء المحسنين}: الذين يعبُدون الله كأنَّهم يَرَوْنَه؛ فإنْ لم يكونوا يَرَوْنَه؛ فإنَّه يراهم، المحسنين إلى عباد الله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔