تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 30

اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ ﴿۫۳۰﴾
بے شک تو مرنے والا ہے اور بے شک وہ بھی مرنے والے ہیں۔ En
(اے پیغمبر) تم بھی مر جاؤ گے اور یہ بھی مر جائیں گے
En
یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ (اے نبی!) بلاشبہ آپ کو مرنا ہے اور یہ بھی مرنے والے ہیں یعنی تم میں سے ہر ایک کو مرنا ہے۔ ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡىِٕنْ مِّؔتَّ فَهُمُ الْخٰؔلِدُوْنَ (الانبیاء:21؍34) دائمی زندگی، ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لیے نہیں رکھی اگر آپ کو موت آ گئی تو کیا یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّك ميتٌ وإنَّهم ميِّتون}؛ أي: كلُّكم لا بدَّ أن يموت، {وما جَعَلْنا لبشرٍ من قبلِكَ الخُلْدَ أفإن متَّ فهم الخالدونَ}.