تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 31

ثُمَّ اِنَّکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿٪۳۱﴾
پھر بے شک تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔ En
پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کے سامنے جھگڑو گے (اور جھگڑا فیصل کردیا جائے گا)
En
پھر تم سب کے سب قیامت والے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ثُمَّ اِنَّـكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ یعنی قیامت کے روز ان امور کے بارے میں تم اپنے رب کے پاس جھگڑو گے جو تمھارے درمیان متنازع ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل و انصاف پر مبنی حکم کے ذریعے سے تمھارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا ﴿اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوْهُ (المجادلة: 58؍6) جسے اللہ تعالیٰ نے شمار کر رکھا ہے اور یہ لوگ اسے بھلا بیٹھے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثمَّ إنَّكم يومَ القيامةِ عندَ ربِّكم تختصمونَ}: فيما تنازعتُم فيه، فيفصلُ بينَكم بحكمِهِ العادل، ويُجازي كلاًّ ما عَمِلَه، أحصاه الله ونَسوهُ.