تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 29

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیۡہِ شُرَکَآءُ مُتَشٰکِسُوۡنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ۚ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۹﴾
اللہ نے ایک آدمی کی مثال بیان کی جس میں ایک دوسرے سے جھگڑنے والے کئی شریک ہیں اور ایک اور آدمی کی جو سالم ایک ہی آدمی کا ہے، کیا دونوں مثال میں برابر ہیں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔ En
خدا ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی (آدمی) شریک ہیں۔ (مختلف المزاج اور) بدخو اور ایک آدمی خاص ایک شخص کا (غلام) ہے۔ بھلا دونوں کی حالت برابر ہے۔ (نہیں) الحمدلله بلکہ یہ اکثر لوگ نہیں جانتے
En
اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے ایک وه شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں، اور دوسرا وه شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے، کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں، اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ سمجھتے نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک اور توحید کی تفہیم کے لیے مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا اللہ ایک آدمی کی مثال بیان فرماتا ہے۔ یعنی غلام کی ﴿فِیْهِ شُ٘رَؔكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے بہت سے لوگ اس غلام کی ملکیت میں شریک ہیں جو کسی حالت میں کسی بھی معاملے پر متفق نہیں ہوتے کہ وہ اس کے لیے آرام کرناممکن ہوسکے بلکہ وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے اور جھگڑتے ہیں۔ ہر ایک شریک کا اپنا اپنا مفاد ہے جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمھارے خیال میں، ان اختلاف کرنے والے اور جھگڑنے والے شرکاء کے مابین، اس غلام کی کیا حالت ہو گی؟
﴿وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ اور ایک آدمی جو خالص صرف ایک شخص کی ملکیت میں ہے۔ وہ اپنے آقا کے مقاصد کو پہچانتا ہے اور اسے کامل راحت حاصل ہے ﴿هَلْ یَسْتَوِیٰنِ کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں۔ ﴿مَثَلًا اس حالت میں یہ دونوں شخص کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ مشرک کی یہی حالت ہے اس میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والی بہت سی ہستیاں شریک ہیں۔ وہ کبھی اس کو پکارتا ہے اور کبھی اس کو پکارتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اسے قرار آتا ہے نہ کسی مقام پر اسے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس موحد اپنے رب کے لیے مخلص ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو غیر کی شرکت سے پاک رکھا ہے اس لیے وہ کامل راحت اور کامل اطمینان میں ہوتا ہے۔ ﴿هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کیا دونوں کی حالت مساوی ہو سکتی ہے؟ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں یعنی باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ان جہلاء کو سیدھی راہ دکھانے پر اللہ تعالیٰ کی ستائش ہے۔ ﴿بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ضَرَبَ مثلاً للشرك والتوحيد، فقال: {ضَرَبَ الله مَثَلاً رجُلاً}؛ أي: عبداً. {فيه شركاءُ متشاكِسونَ}: فهم كثيرون، وليسوا متَّفقينَ على أمرٍ من الأمور وحالةٍ من الحالات حتى تُمْكِنَ راحتُه، بل هم متشاكسونَ متنازِعون فيه، كلٌّ له مطلبٌ يريد تنفيذَه ويريدُ الآخرُ غيرَه؛ فما تظنُّ حال هذا الرجل مع هؤلاء الشركاء المتشاكسين؟! {ورجلاً سَلَماً لرجل}؛ أي: خالصاً له قد عَرَفَ مقصودَ سيِّدِهِ وحصلتْ له الراحةُ التامةُ. {هل يستويانِ}؛ أي: هذان الرجلان {مثلاً}؟ لا يستويانِ، كذلك المشركُ فيه شركاءُ متشاكسون، يدعو هذا ثم يدعو هذا، فتراه لا يستقرُّ له قرارٌ ولا يطمئنُّ قلبُه في موضع، والموحِّدُ مخلصٌ لربِّه، قد خلَّصه الله من الشركةِ لغيرِهِ؛ فهو في أتمِّ راحة وأكمل طمأنينةٍ. فـ {هل يستويانِ مَثَلاً الحمدُ لله}: على تبيين الحقِّ من الباطل وإرشادِ الجهَّال. {بل أكثرُهم لا يعلمونَ}.