تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 79

قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۷۹﴾
اس نے کہا اے میرے رب !پھر مجھے اس دن تک کے لیے مہلت دے جس میں یہ اٹھا ئے جائیں گے۔ En
کہنے لگا کہ میرے پروردگار مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے
En
کہنے لگا میرے رب مجھے لوگوں کے اٹھ کھڑے ہونے کے دن تک مہلت دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔ چونکہ اسے آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال ربِّ فأنظِرْني إلى يوم يبعثون}: لشدَّة عداوتِهِ لآدمَ وذرَّيَّته؛ ليتمكَّن من إغواء مَنْ قَدَّرَ الله أن يُغْوِيَه.