تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 80

قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ ﴿ۙ۸۰﴾
فرمایا پس بے شک تو ان لوگوں سے ہے جنھیں مہلت دی گئی۔ En
فرمایا کہ تجھ کو مہلت دی جاتی ہے
En
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا تو مہلت والوں میں سے ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قَالَ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَ٘رِیْنَۙ۰۰ اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْ٘مَعْلُوْمِ تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فـ {قال} الله مجيباً لدعوتِهِ حيث اقتضتْ حكمتُهُ ذلك: {إنَّكَ من المُنْظَرين. إلى يوم الوقتِ المعلوم}: حين تُسْتَكْمَلُ الذريَّةُ، ويتمُّ الامتحان.