ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 79

قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۷۹﴾
اس نے کہا اے میرے رب !پھر مجھے اس دن تک کے لیے مہلت دے جس میں یہ اٹھا ئے جائیں گے۔ En
کہنے لگا کہ میرے پروردگار مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے
En
کہنے لگا میرے رب مجھے لوگوں کے اٹھ کھڑے ہونے کے دن تک مہلت دے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 78 میں تا آیت 80 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

79۔ وہ کہنے لگا: ”میرے پروردگار! پھر مجھے اس وقت تک مہلت دے دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔ چونکہ اسے آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال ربِّ فأنظِرْني إلى يوم يبعثون}: لشدَّة عداوتِهِ لآدمَ وذرَّيَّته؛ ليتمكَّن من إغواء مَنْ قَدَّرَ الله أن يُغْوِيَه.