تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿مَاسَمِعْنَابِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِیالْمِلَّةِالْاٰخِرَةِ﴾”پچھلے مذہب میں۔“ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔
یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ما سمعنا بهذا}: القول الذي قاله والدين الذي دعا إليه {في الملَّةِ الآخرةِ}؛ أي: في الوقت الأخير، فلا أدْرَكْنا عليه آباءنا، ولا آباؤنا أدركوا آباءهم عليه؛ فامضوا على الذي مضى عليه آباؤكم؛ فإنَّه الحقُّ، وما هذا الذي دعا إليه محمدٌ إلاَّ اختلاقٌ اخْتَلَقَهُ وكذبٌ افتراه. وهذه أيضاً شبهةٌ من جنس شبهتهم الأولى؛ حيث ردُّوا الحقَّ بما ليس بحجَّة لردِّ أدنى قول، وهو أنَّه قولٌ مخالف لما عليه آباؤهم الضالُّون؛ فأين في هذا ما يدلُّ على بطلانه؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔