(آیت 7) ➊ {مَاسَمِعْنَابِهٰذَافِيالْمِلَّةِالْاٰخِرَةِ:} آخری ملت سے مراد ان کے قریب کے آبا و اجداد ہیں، کیونکہ اصل دینِ ابراہیم(علیہ السلام) تو توحید پر قائم تھا۔ یہ عمرو بن لحی خزاعی تھا جس نے عرب میں بت پرستی کو رواج دیا، حتیٰ کہ عین کعبہ میں ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کی مورتیوں کے ہاتھ میں فال کے تیر رکھ دیے گئے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”پچھلا دین (آخری ملت) کہتے تھے اپنے باپ دادوں کو، یعنی آگے تو سنے ہیں کہ اگلے لوگ ایسی باتیں کہتے، پر ہمارے بزرگ تو یوں نہیں کہہ گئے۔“ (موضح) بعض مفسرین نے فرمایا کہ آخری ملت سے مراد عیسائی ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سب سے آخر میں آنے والے نبی عیسیٰ علیہ السلام ہی تھے، یعنی ہم نے نصاریٰ میں بھی توحید کی بات نہیں سنی، بلکہ وہ بھی تین خداؤں کے قائل ہیں۔ ➋ { اِنْهٰذَاۤاِلَّااخْتِلَاقٌ: ”اخْتِلَاقٌ“} مصدر بمعنی اسم مفعول برائے مبالغہ ہے، یعنی یہ محض گھڑی ہوئی بات ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 پچھلے دین سے مراد تو ان کا دین قریش ہے، یا پھر دین نصاریٰ یعنی یہ جس توحید کی دعوت دے رہا ہے، اس کی بابت تو ہم نے کسی بھی دین میں نہیں سنا۔ 7۔ 2 یعنی یہ توحید صرف اس کی اپنی من گھڑت ہے، ورنہ عیسائیت میں بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو الوہیت میں شریک تسلیم کیا گیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ جو ہم نے زمانہ قریب کے دین [7] میں کبھی نہیں سنی۔ یہ تو بس ایک من گھڑت بات ہے۔
[7] یعنی قریب کے زمانہ میں ہمارے اپنے بزرگ بھی گزرے ہیں یہودی اور عیسائی بھی ہمارے ملک اور آس پاس کے ملکوں میں موجود ہیں۔ ایران، عراق اور مشرقی عرب مجوسیوں سے بھرا پڑا ہے۔ کسی نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ انسان بس ایک اللہ کو مانے اور کسی کو نہ مانے۔ اللہ کے پیاروں کے تصرفات کو تو ایک دنیا مان رہی ہے اور ان سے فیض پانے والے بتا رہے ہیں کہ ان درباروں سے فی الواقع لوگوں کی مشکل کشائی اور حاجت روائی ہو جاتی ہے۔ پھر آخر اللہ اکیلے پر کون اکتفا کرتا ہے؟ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض ایک من گھڑت بات ہے اور اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم ان کی تابعداری کریں اور یہ ہمارا حاکم بن جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿مَاسَمِعْنَابِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِیالْمِلَّةِالْاٰخِرَةِ﴾”پچھلے مذہب میں۔“ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔
یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ما سمعنا بهذا}: القول الذي قاله والدين الذي دعا إليه {في الملَّةِ الآخرةِ}؛ أي: في الوقت الأخير، فلا أدْرَكْنا عليه آباءنا، ولا آباؤنا أدركوا آباءهم عليه؛ فامضوا على الذي مضى عليه آباؤكم؛ فإنَّه الحقُّ، وما هذا الذي دعا إليه محمدٌ إلاَّ اختلاقٌ اخْتَلَقَهُ وكذبٌ افتراه. وهذه أيضاً شبهةٌ من جنس شبهتهم الأولى؛ حيث ردُّوا الحقَّ بما ليس بحجَّة لردِّ أدنى قول، وهو أنَّه قولٌ مخالف لما عليه آباؤهم الضالُّون؛ فأين في هذا ما يدلُّ على بطلانه؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔