تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَانْطَلَقَالْمَلَاُمِنْهُمْ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِامْشُوْاوَاصْبِرُوْاعَلٰۤىاٰلِهَتِكُمْ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّهٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَیْءٌیُّرَادُ ﴾”یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔“ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وانطَلَقَ الملأ منهم}: المقبولُ قولُهم، محرِّضينَ قومَهم على التمسُّك بما هم عليه من الشرك. {أنِ امْشوا واصبِروا على آلِهَتِكُم}؛ أي: استمرَّوا عليها وجاهدوا نفوسَكم في الصبر عليها وعلى عبادتها، ولا يردُّكم عنها رادٌّ، ولا يصدَّنَّكم عن عبادتها صادٌّ. {إنَّ هذا}: الذي جاء به محمدٌ من النهي عن عبادتها {لشيءٌ يُرادُ}؛ أي: يُقْصَدُ؛ أي: له قصدٌ ونيةٌ غير صالحة في ذلك، وهذه شبهةٌ لا تَروج إلاَّ على السُّفهاء؛ فإنَّ مَنْ دعا إلى قول حقٍّ أو غير حقٍّ لا يُرَدُّ قولُه بالقدح في نيَّتِهِ؛ فنيَّتُهُ وعملُه له، وإنَّما يُرَدُّ بمقابلتِهِ بما يُبْطِلُهُ ويفسِدُهُ من الحُجج والبراهين، وهم قصدُهم أنَّ محمداً ما دعاكم إلى ما دعاكم إلاَّ ليرأس فيكم ويكونَ معظَّماً عندكم متبوعاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔