تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قُ٘لْ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَنَبَؤٌاعَظِیْمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنْتُمْعَنْهُمُعْرِضُوْنَ ﴾”تم اس سے اعراض کرتے ہو۔“ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل}: لهم مخوفاً ومحذِّراً ومنهضاً لهم ومنذراً: {هو نبأٌ عظيمٌ}؛ أي: ما أنبأتُكم به من البعث والنشور والجزاء على الأعمال خبرٌ عظيم ينبغي الاهتمام الشديد بشأنه، ولا ينبغي إغفالُه. ولكنْ {أنتُم عنه معرِضونَ}: كأنَّه ليس أمامكم حسابٌ ولا عقابٌ ولا ثوابٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔