(آیت 68،67) {قُلْهُوَنَبَؤٌاعَظِيْمٌ …:} پچھلی آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور معبود صرف اللہ ہے جو مذکورہ صفات کا مالک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اللہ کے عذاب سے اور قیامت سے ڈراتے تھے، جس پر وہ فوراً مطالبہ کرتے کہ وہ عذاب لاؤ، قیامت لے آؤ، یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ یہاں ان کا سوال ذکر کیے بغیر اس کا جواب دینے کا حکم دیا کہ ان سے کہہ دیجیے کہ وہ قیامت بہت بڑی خبر اور بہت بڑا واقعہ ہے جس سے تم منہ موڑنے والے ہو۔ رہا مجھ سے یہ سوال کہ وہ کب آئے گی؟ تو یہ بتانا میرا کام نہیں، قیامت تو بہت دور کی بات ہے، مجھے تو آسمانوں پر فرشتوں کی مجلس میں ہونے والی بات چیت اور بحث کا بھی کبھی علم نہیں ہوتا، سوائے اس کے جو میری طرف وحی کی جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
67۔ 1 یعنی میں تمہیں جس عذاب اخروی سے ڈرا رہا اور توحید کی دعوت دے رہا ہوں یہ بڑی خبر ہے، جس سے اعراض و غفلت نہ برتو، بلکہ اس پر توجہ دینے اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
67۔ آپ ان سے کہئے کہ: یہ ایک بہت بڑی خبر ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قُ٘لْ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَنَبَؤٌاعَظِیْمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنْتُمْعَنْهُمُعْرِضُوْنَ ﴾”تم اس سے اعراض کرتے ہو۔“ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل}: لهم مخوفاً ومحذِّراً ومنهضاً لهم ومنذراً: {هو نبأٌ عظيمٌ}؛ أي: ما أنبأتُكم به من البعث والنشور والجزاء على الأعمال خبرٌ عظيم ينبغي الاهتمام الشديد بشأنه، ولا ينبغي إغفالُه. ولكنْ {أنتُم عنه معرِضونَ}: كأنَّه ليس أمامكم حسابٌ ولا عقابٌ ولا ثوابٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔