تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 66

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا الۡعَزِیۡزُ الۡغَفَّارُ ﴿۶۶﴾
جو آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے اور ان چیزوں کا جو ان دونوں کے درمیان ہیں ، سب پر غالب، بہت بخشنے والا ہے۔ En
جو آسمانوں اور زمین اور جو مخلوق ان میں ہے سب کا مالک ہے غالب (اور) بخشنے والا
En
جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وه زبردست اور بڑا بخشنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الْ٘عَزِیْزُ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الْغَفَّارُ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقرَّر ذلك أيضاً بتوحيد الربوبيَّة، فقال: {ربُّ السمواتِ والأرضِ وما بينَهما}؛ أي: خالقُهما ومربِّيهما ومدبِّرُهما بجميع أنواع التدابير، {العزيزُ}: الذي له القوة التي بها خَلَقَ المخلوقاتِ العظيمة. {الغفَّارُ}: لجميع الذنوب؛ صغيرها وكبيرها، لمن تاب إليه وأقلع منها. فهذا الذي يحبُّ، ويستحقُّ أن يُعْبَدَ دونَ مَنْ لا يخلُق، ولا يرزُق ولا يضرُّ، ولا ينفعُ، ولا يملِكُ من الأمر شيئاً، وليس له قوَّةُ الاقتدار، ولا بيدِهِ مغفرةُ الذُّنوب والأوزار.