تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 65

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ٭ۖ وَّ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿ۚ۶۵﴾
کہہ دے میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں اور کوئی معبود نہیں مگر اللہ، جو ایک ہے ، بڑے دبدبے والا ہے۔ En
کہہ دو کہ میں تو صرف ہدایت کرنے والا ہوں۔ اور خدائے یکتا اور غالب کے سوا کوئی معبود نہیں
En
کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف خبردار کرنے واﻻ ہوں اور بجز اللہ واحد غالب کے اور کوئی ﻻئق عبادت نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ وہ واحد و قہار ہے۔
اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل}: يا أيُّها الرسولُ لهؤلاء المكذِّبين إنْ طَلَبوا منك ما ليس لك ولا بيدِكَ: {إنَّما أنا منذرٌ}: هذا نهايةُ ما عندي، وأمَّا الأمرُ؛ فلله تعالى، ولكني آمرُكُم وأنهاكُم وأحثُّكم على الخير وأزجُرُكم عن الشرِّ؛ فمنِ اهتدى فلنفسِهِ، ومن ضلَّ فعليها. {وما مِنْ إلهٍ إلاَّ الله}؛ أي: ما أحدٌ يؤلَّه ويُعبدُ بحقِّ إلاَّ الله، {الواحدُ القهارُ}: هذا تقريرٌ لألوهيَّته بهذا البرهان القاطع، وهو وحدتُه تعالى وقهرُه لكلِّ شيء؛ فإنَّ القهر ملازمٌ للوحدة؛ فلا يكون قهّارَيْنِ متساوِيَيْنِ في قهرهما أبداً، فالذي يقهر جميع الأشياءِ هو الواحدُ الذي لا نظير له، وهو الذي يستحقُّ أن يُعْبَدَ وحدَه كما كان قاهراً وحدَه.