تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 5

اَجَعَلَ الۡاٰلِہَۃَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚۖ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ عُجَابٌ ﴿۵﴾
کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا؟ بلاشبہ یہ یقینا بہت عجیب بات ہے۔ En
کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے
En
کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا یقینا یہ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَیْءٌ عُجَابٌ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وذنبُهُ عندَهم أنَّه {جعل الآلهة إلهاً واحداً}؛ أي: كيف ينهى عن اتِّخاذ الشركاء والأنداد ويأمُرُ بإخلاص العبادة لله وحده؟! {إنَّ هذا}: الذي جاء به {لشيءٌ عُجابٌ}؛ أي: يقضى منه العجب لبطلانِهِ وفسادِهِ عندهم.