تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 50

جَنّٰتِ عَدۡنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّہُمُ الۡاَبۡوَابُ ﴿ۚ۵۰﴾
ہمیشہ رہنے کے باغات، اس حال میں کہ ان کے لیے دروازے پورے کھلے ہوں گے ۔ En
ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے
En
(یعنی ہمیشگی والی) جنتیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین ٹھکانے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَنّٰتِ عَدْنٍ یعنی ہمیشہ سرسبز وشاداب رہنے والے باغات، ان کے کمال اور ان کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا ﴿مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے، ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہو گی بلکہ ان کی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن و امان ہو گا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہو گی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم فسَّره وفصَّله فقال: {جناتِ عدنٍ}؛ أي: جنات إقامةٍ لا يبغي صاحبها بدلاً منها من كمالها وتمام نعيمها، وليسوا بخارجين منها ولا بمُخْرَجينَ، {مفتَّحةً لهم الأبوابُ}؛ أي: مفتحة لأجلهم أبوابُ منازِلِها ومساكِنِها، لا يحتاجونَ أن يَفْتَحوها هم، بل هم مخدومونَ، وهذا دليلٌ أيضاً على الأمان التامِّ، وأنَّه ليس في جناتِ عدنٍ ما يوجِبُ أن تُغَلَّقَ لأجلِهِ أبوابُها.