تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 51

مُتَّکِـِٕیۡنَ فِیۡہَا یَدۡعُوۡنَ فِیۡہَا بِفَاکِہَۃٍ کَثِیۡرَۃٍ وَّ شَرَابٍ ﴿۵۱﴾
ان میں تکیے لگا ئے ہوئے ہوں گے، وہ ان میں بہت سے پھل اور مشروب منگوارہے ہوں گے۔ En
ان میں تکیٴے لگائے بیٹھے ہوں گے اور (کھانے پینے کے لئے) بہت سے میوے اور شراب منگواتے رہیں گے
En
جن میں بافراغت تکیے لگائے بیٹھے ہوئے طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کی شرابوں کی فرمائشیں کر رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿مُتَّـكِـــِٕیْنَ فِیْهَا وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے ﴿یَدْعُوْنَ فِیْهَا یعنی وہ اپنے خدام کو حکم دیں گے ﴿بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّشَرَابٍ کہ وہ ان کی خدمت میں بکثرت پھل اور مشروبات پیش کریں، جن کو ان کے نفس پسند کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہاں ان کو کامل نعمت، کامل راحت و طمانینت اور کامل لذت حاصل ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{متكئين فيها}: على الأرائك المزيَّنات والمجالس المزخرفات. {يَدْعون فيها}؛ أي: يأمرون خدَّامهم أن يأتوا {بفاكهةٍ كثيرةٍ وشرابٍ}: من كلِّ ما تشتهيه نفوسُهم وتلذُّه أعينُهم، وهذا يدلُّ على كمال النعيم وكمال الراحة والطُّمأنينة وتمام اللَّذَّة.