تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 49

ہٰذَا ذِکۡرٌ ؕ وَ اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ لَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴿ۙ۴۹﴾
یہ ایک نصیحت ہے اور بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے یقینا اچھا ٹھکانا ہے۔ En
یہ نصیحت ہے اور پرہیزگاروں کے لئے تو عمدہ مقام ہے
En
یہ نصیحت ہے اور یقین مانو کہ پرہیزگاروں کی بڑی اچھی جگہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿هٰؔذَا یہ یعنی انبیاء و مرسلین اور ان کے اوصاف کا تذکرہ تو ﴿ذِكْرٌ نصیحت ہے اس نصیحت کرنے والے قرآن کریم تاکہ ان کے احوال سے نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں، اقتدا کرنے والے ان کے اوصاف حمیدہ کی پیروی کے مشتاق ہوں اور ان اوصاف زکیہ اور ثنائے حسن کی معرفت حاصل ہو، جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا۔ یہ بھی ذکر کی ایک قسم ہے، یعنی اہل خیر کا تذکرہ،
﴿وَاِنَّ لِلْ٘مُتَّقِیْنَ یعنی ان تمام مومنین اور مومنات کے لیے جو اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کرتے ہیں ﴿لَحُسْنَ مَاٰبٍ بہترین ٹھکانا اور خوب ترین مرجع ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا؛ أي: ذِكْرُ هؤلاء الأنبياء الصفوة، وذِكْر أوصافهم {ذِكْرٌ}: في هذا القرآن ذي الذكر، يَتَذَكَّرُ بأحوالهم المتذكِّرون، ويشتاقُ إلى الاقتداء بأوصافهم الحميدةِ المقتدونَ، ويُعَرفُ ما منَّ الله عليهم به من الأوصاف الزكيَّة، وما نَشَرَ لهم من الثناء بين البريَّة. فهذا نوعٌ من أنواع الذكر، وهو ذكر أهل الخير.

أي: {وإنَّ للمتقين}: ربَّهم؛ بامتثال الأوامر واجتناب النواهي من كلِّ مؤمن ومؤمنة {لَحُسْنَ مآبٍ}؛ أي: لمآباً حسناً ومرجعاً مستحسناً.