تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 4

وَ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَہُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡہُمۡ ۫ وَ قَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ ۖ﴿ۚ۴﴾
اور انھوں نے اس پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافروں نے کہا یہ ایک سخت جھوٹا جادوگر ہے۔ En
اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
En
اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے واﻻ آگیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَعَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌؔ مِّؔنْهُمْ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا: ﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وعَجِبوا أن جاءهم منذرٌ منهم}؛ أي: عجب هؤلاء المكذِّبون في أمرٍ ليس محلَّ عجبٍ أن جاءهم منذرٌ منهم ليتمكَّنوا من التلقِّي عنه وليعرفوه حقَّ المعرفة، ولأنَّه من قومهم؛ فلا تأخُذُهم النَّخوة القوميَّة عن اتِّباعِهِ؛ فهذا مما يوجبُ الشكر عليهم وتمامَ الانقيادِ له، ولكنَّهم عكسوا القضيَّة، فتعجَّبوا تعجُّب إنكار، وقالوا من كفرهم وظلمهم: {هذا ساحرٌ كذابٌ}!