تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنَّـاۤ٘اَخْلَصْنٰهُمْبِخَالِصَةٍ ﴾”بے شک ہم نے انہیں ایک امتیازی بات کے ساتھ خاص کیا۔“ یعنی بہت بڑی خالص صفت کے ساتھ جو کہ ﴿ذِكْرَىالدَّارِ﴾”آخرت کی یاد ہے“ یعنی ہم نے آخرت کی یاد ان کے دلوں میں جاگزیں کر دی، عمل صالح کو ان کے وقت کا مصرف، اخلاص اور مراقبہ کو ان کا دائمی وصف بنا دیا۔ ہم نے ان کو اس طرح آخرت کی یاد بنا دیا کہ نصیحت پکڑنے والا ان کے احوال سے نصیحت اور عبرت حاصل کرنے والا عبرت حاصل کرتا ہے اور یہ بہترین طریقے سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔