تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 45

وَ اذۡکُرۡ عِبٰدَنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ اُولِی الۡاَیۡدِیۡ وَ الۡاَبۡصَارِ ﴿۴۵﴾
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کر، جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے۔ En
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے
En
ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا بھی لوگوں سے ذکر کرو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ ہمارے اور بندوں کا ذکر کیجیے جنھوں نے خالص ہماری عبادت کی اور ہمیں اچھی طرح یاد کیا ﴿اِبْرٰهِیْمَ ابراہیم خلیل اللہ ﴿وَ اور ان کے بیٹے ﴿اِسْحٰقَ وَ اسحاق اور ان (ابراہیم علیہ السلام) کے پوتے ﴿یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ یعقوب یہ سب قوت والے تھے۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے قوت رکھتے تھے۔ ﴿وَالْاَبْصَارِ اور اللہ تعالیٰ کے دین میں بصیرت سے بہرہ مند تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو علم نافع اور عمل صالح سے موصوف کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {واذْكُرْ عِبَادَنا}: الذين أخلصوا لنا العبادةَ ذكراً حسناً {إبراهيم}: الخليل {و} ابنه {إسحاقَ} وابن ابنه {يعقوب أولي الأيدي}؛ أي: القوَّة على عبادة اللَّه تعالى، {والأبصار}؛ أي: البصيرة في دين اللَّه. فوصَفَهم بالعلم النافع والعمل الصالح الكثير.