تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 44

وَ خُذۡ بِیَدِکَ ضِغۡثًا فَاضۡرِبۡ بِّہٖ وَ لَا تَحۡنَثۡ ؕ اِنَّا وَجَدۡنٰہُ صَابِرًا ؕ نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿۴۴﴾
اور اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) لے اور اسے مار دے اور قسم نہ توڑ، بے شک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا، اچھا بندہ تھا۔ یقینا وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔ En
اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔ بےشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا۔ بہت خوب بندے تھے بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے
En
اور اپنے ہاتھوں میں تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) لے کر مار دے اور قسم کے خلاف نہ کر، سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے بڑا صابر بنده پایا، وه بڑا نیک بنده تھا اور بڑی ہی رغبت رکھنے واﻻ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو حکم دیا ﴿وَخُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو۔ یعنی درخت کی باریک شاخوں کا گٹھا ﴿فَاضْرِبْ بِّهٖ وَلَا تَحْنَثْ اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔ مفسرین کہتے ہیں کہ ایوب علیہ السلام بیماری اور تکلیف کے دوران کسی معاملے میں اپنی بیوی سے ناراض ہو گئے تھے، اس پر آپ نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سو کوڑے ماریں گے۔ ان کی بیوی، انتہائی نیک اور آپ کے ساتھ بھلائی کرنے والی خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس خاتون پر اور حضرت ایوب علیہ السلام پر رحم فرمایا اور فتویٰ دیا کہ وہ درخت کی باریک سو شاخوں کا گٹھا لے کر اس سے ایک ہی دفعہ ماریں ان کی قسم پوری ہو جائے گی۔
﴿اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا یعنی ہم نے آپ کو بہت بڑی بیماری اور تکلیف کے ذریعے سے آزمایا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کیا۔ ﴿نِعْمَ الْعَبْدُ وہ بہترین بندے تھے جنھوں نے خوشی اور مصیبت، خوش حالی اور بدحالی میں عبودیت کے مراتب کی تکمیل کی ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ یعنی آپ اپنے دینی اور دنیاوی مطالب میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے، اپنے رب کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے، اس کو بہت زیادہ پکارنے والے، اس سے محبت اور اس کی عبادت کرنے والے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وخُذْ بيدِكَ ضِغْثاً}؛ أي: حزمة شماريخ، {فاضْرِبْ به ولا تَحْنَثْ}: قال المفسِّرون: وكان في مرضه وضُرِّه قد غضب على زوجتِهِ في بعض الأمور، فحلف لئن شفاهُ الله ليضرِبَنَّها مائةَ جلدةٍ، فلمَّا شفاه الله، وكانت امرأتُه صالحةً محسنةً إليه؛ رحمها الله ورحمه، فأفْتاه أن يضرِبَها بِضِغْثٍ فيه مائةُ شمراخ ضربةً واحدةً فيبَرَّ في يمينه. {إنا وجَدْناه}؛ أي: أيوب {صابراً}؛ أي: ابتليناه بالضُّرِّ العظيم فصبر لوجه الله تعالى. {نعم العبدُ}: الذي كَمَّلَ مراتبَ العبوديَّة في حال السرَّاءِ والضرَّاءِ والشدَّة والرَّخاء، {إنَّه أوابٌ}؛ أي: كثير الرجوع إلى الله في مطالبه الدينيَّة والدنيويَّة، كثير الذِّكْرِ لربِّه والدعاء والمحبة والتألُّه.