تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 43

وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اَہۡلَہٗ وَ مِثۡلَہُمۡ مَّعَہُمۡ رَحۡمَۃً مِّنَّا وَ ذِکۡرٰی لِاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۴۳﴾
اور ہم نے اسے اس کے گھر والے عطا کر دیے اور ان کے ساتھ اتنے اور بھی، ہماری طرف سے رحمت کے لیے اور عقلوں والوں کی نصیحت کے لیے۔ En
اور ہم نے ان کو اہل و عیال اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے۔ (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی
En
اور ہم نے اسے اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا بلکہ اتنا ہی اور بھی اسی کے ساتھ اپنی (خاص) رحمت سے، اور عقلمندوں کی نصیحت کے لئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ اور ہم نے انھیں ان کے اہل و عیال عطا کردیے۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل و عیال کو زندہ کر دیا تھا۔ ﴿وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ اور دنیا میں اتنے ہی اور عطا کر دیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ مال سے بہرہ مند کر کے نہایت مال دار کر دیا ﴿رَحْمَةً مِّؔنَّا یعنی ہماری طرف سے ہمارے بندے ایوب پر رحمت تھی کیونکہ انھوں نے صبر کیا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند کیا۔ ﴿وَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ تاکہ عقل مند لوگ حضرت ایوب علیہ السلام کی حالت سے نصیحت اور عبرت پکڑیں اور انھیں معلوم ہو جائے کہ جو کوئی مصیبت میں صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیاوی اور اخروی ثواب سے نوازتا ہے اور جب وہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ووهَبْنا له أهلَه}: قيل: إنَّ الله تعالى أحياهم له {ومثلَهُم معهم}: في الدنيا، وأغناه الله وأعطاه مالاً عظيماً، {رحمةً منَّا}: بعبدنا أيوبَ حيث صَبَرَ فأثبناه من رحمتنا ثواباً عاجلاً وآجلاً. {وذِكرى لأولي الألبابِ}؛ أي: وليتذكَّر أولو العقول بحالةِ أيُّوب ويعتبِروا فيعلموا أنَّ مَنْ صَبَرَ على الضُّرِّ؛ فإنَّ الله تعالى يُثيبه ثواباً عاجلاً وآجلاً ويستجيبُ دعاءه إذا دعاه.