تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 42

اُرۡکُضۡ بِرِجۡلِکَ ۚ ہٰذَا مُغۡتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ ﴿۴۲﴾
اپنا پاؤں مار، یہ نہانے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے۔ En
(ہم نے کہا کہ زمین پر) لات مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں)
En
اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان سے کہا گیا ﴿اُرْؔكُ٘ضْ بِرِجْلِكَ یعنی اپنی ایڑی زمین پر ماریں آپ کے لیے ایک چشمہ زمین سے پھوٹ پڑے گا، اس چشمے کا پانی پیجیے اور اس سے غسل کیجیے۔ آپ کی بیماری اور تکلیف دور ہو جائے گی۔ آپ نے ایسا ہی کیا آپ کی بیماری دور ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا بخش دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقيل له: {اركُضْ برِجْلِكَ}؛ أي: اضربِ الأرض بها؛ لينبعَ لك منها عينٌ تغتسلُ منها وتشربُ، فيذهب عنك الضرُّ والأذى، ففعل ذلك، فذهب عنه الضرُّ وشفاه الله تعالى.