تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 41

وَ اذۡکُرۡ عَبۡدَنَاۤ اَیُّوۡبَ ۘ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الشَّیۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّ عَذَابٍ ﴿ؕ۴۱﴾
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بے شک شیطان نے مجھے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ En
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہٰا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے
En
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاذْكُرْ اور یاد کرو یعنی نصیحت والی اس کتاب عظیم کے اندر ﴿عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ ہمارے بندے ایوب کا بہترین پیرائے میں ذکر کیجیے اور احسن طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے جب انھیں تکلیف اور مصیبت پہنچی تو انھوں نے اس تکلیف پر صبر کیا اور غیر کے سامنے اپنے رب کا شکوہ کیا نہ اس کے سوا کسی اور کا سہارا لیا ﴿اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ جب ایوب علیہ السلام نے غیراللہ کے پاس نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس شکوہ کرتے اور اس سے دعا کرتے ہوئے اسی کو پکارا اور عرض کیا اے میرے رب! ﴿اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّ٘یْطٰ٘نُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ یعنی شیطان نے مجھے مشقت انگیز اور نہایت تکلیف دہ عذاب میں ڈال دیا ہے۔ شیطان کو آپ کے جسد پر تسلط حاصل ہو گیا اس نے پھونک ماری تو جسم پر پھوڑے بن گئے، پھر ان سے پیپ بہنے لگی اور اس کے بعد معاملہ بہت سخت ہو گیا اور اسی طرح ان کا مال اور ان کے اہل و عیال بھی ہلاک ہو گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {واذكر}: في هذا الكتاب ذي الذكر {عبدَنا أيُّوبَ}: بأحسن الذِّكْر، وأثْنِ عليه بأحسن الثناء؛ حين أصابه الضُّرُّ فصبر على ضُرِّه، فلم يشتكِ لغير ربِّه، ولا لجأ إلاَّ إليه. فـ {نادى ربَّه}: داعياً، وإليه لا إلى غيره شاكياً، فقال: ربِّ {إنِّي مَسَّنِيَ الشيطانُ بِنُصْبٍ وعذابٍ}؛ أي: بأمر مُشِقٍّ متعبٍ معذبٍ، وكان سُلِّطَ على جسدِهِ فنفخ فيه حتى تقرَّحَ ثم تقيَّحَ بعد ذلك، واشتدَّ به الأمر، وكذلك هلك أهلُه ومالُه.