تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 40

وَ اِنَّ لَہٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰی وَ حُسۡنَ مَاٰبٍ ﴿٪۴۰﴾
اور بلاشبہ اس کے لیے ہمارے ہاں یقینا بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے۔ En
اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قُرب اور عمدہ مقام ہے
En
ان کے لئے ہمارے پاس بڑا تقرب ہے اور بہت اچھا ٹھکانا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمان علیہ السلام کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْ٘فٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولا تحسبنَّ هذا لسليمانَ في الدُّنيا دون الآخرة، بل له في الآخرة خيرٌ عظيمٌ، ولهذا قال: {وإنَّ له عندَنا لَزُلْفى وحسنَ مآبٍ}؛ أي: هو من المقرَّبين عند اللهِ المكرَمين بأنواع الكراماتِ لله.