ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 40

وَ اِنَّ لَہٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰی وَ حُسۡنَ مَاٰبٍ ﴿٪۴۰﴾
اور بلاشبہ اس کے لیے ہمارے ہاں یقینا بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے۔ En
اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قُرب اور عمدہ مقام ہے
En
ان کے لئے ہمارے پاس بڑا تقرب ہے اور بہت اچھا ٹھکانا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40) {وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ:} یعنی دنیوی بادشاہی کے علاوہ اسے ہمارے ہاں خاص قرب حاصل ہے اور ان کے لیے آخرت کا بہترین ٹھکانا یعنی سب سے بلند مقام جنت الفردوس تیار ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

40۔ 1 یعنی دنیاوی جاہ و مرتبت عطا کرنے کے باوجود آخرت میں بھی حضرت سلیمان ؑ کو قرب خاص اور مقام خاص حاصل ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ بلا شبہ انہیں ہمارے ہاں قرب [46] اور عمدہ مقام ہے۔
[46] یعنی ان کی سلطنت اور فرمانروائی ہماری عبادت گزاری کے آڑے نہ آسکی۔ شاہی میں فقیرانہ زندگی بسر کرنا بھی ایک بڑی آزمائش ہے جس میں وہ پورے اترے لہٰذا اللہ نے انہیں مقربین میں شامل کر لیا اور بلند درجات عطا فرمائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمان علیہ السلام کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْ٘فٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولا تحسبنَّ هذا لسليمانَ في الدُّنيا دون الآخرة، بل له في الآخرة خيرٌ عظيمٌ، ولهذا قال: {وإنَّ له عندَنا لَزُلْفى وحسنَ مآبٍ}؛ أي: هو من المقرَّبين عند اللهِ المكرَمين بأنواع الكراماتِ لله.