تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 3

کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ فَنَادَوۡا وَّ لَاتَ حِیۡنَ مَنَاصٍ ﴿۳﴾
ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر دیا تو انھوں نے پکارا اوروہ بچ نکلنے کا وقت نہیں تھا۔ En
ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا
En
ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباه کر ڈاﻻ انہوں نے ہر چند چیﺦ وپکار کی لیکن وه وقت چھٹکارے کا نہ تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فتوعَّدهم بإهلاك القرون الماضية المكذِّبة بالرسل، وأنَّهم حين جاءهم الهلاكُ؛ نادَوْا واستغاثوا في صرف العذاب عنهم، ولكنْ {لاتَ حينَ مناص}؛ أي: وليس الوقت وقتَ خلاصٍ مما وقعوا فيه ولا فرج لما أصابهم، فليحذَرْ هؤلاء أن يَدوموا على عزَّتِهِم وشقاقِهِم؛ فيصيبُهم ما أصابهم.