(آیت 3) ➊ {كَمْاَهْلَكْنَامِنْقَبْلِهِمْمِّنْقَرْنٍ:} اس آیت میں قریش اور اس امت کے تمام کفار کو پہلی امتوں کے تکبرّ اور انکار کے انجام بد سے ڈرایا ہے۔ {”اَهْلَكْنَا“} جمع متکلم کا لفظ اپنی عظمت کے اظہار کے لیے لائے ہیں۔ {”قَرْنٍ“} زمانے کی اتنی مدت جس میں ایک دوسرے سے ملنے والی ایک نسل ختم ہو جائے۔ راجح قول کے مطابق یہ مدت سو سال ہے، مراد ایک زمانے کے لوگ ہیں۔ {”كَمْ“} خبریہ ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی نسلوں اور قوموں کو ہلاک کر دیا۔ ➋ { فَنَادَوْاوَّلَاتَحِيْنَمَنَاصٍ: ”لَاتَ“”لَا“} نافیہ ہی ہے، جس پر مبالغہ کے لیے ”تاء“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ہمیشہ لفظ {”حِيْنَ“} یا وقت کا معنی دینے والے الفاظ پر آتا ہے۔ اس کا اسم محذوف ہے اور {”حِيْنَمَنَاصٍ“} اس کی خبر ہے۔ گویا عبارت یہ ہے: {”وَلَاتَالْحِيْنُحِيْنَمَنَاصٍ۔“”مَنَاصٍ“”نَاصَيَنُوْصُنَوْصًا“} سے مصدر میمی ہے۔ اس کا معنی {”فَرَّمِنْفُلَانٍ“} کسی سے بھاگ جانا بھی ہے اور {”نَجَاوَفَاتَ“} (بچ کر نکل جانا بھی) مطلب یہ ہے کہ جب ان قوموں نے ہماری طرف سے آنے والی ہلاکت اور عذاب کی نشانیوں کو دیکھا تو انھوں نے پکارا، یعنی مدد کے لیے اور ہلاکت سے بچانے کے لیے پکارا اور ایمان لانے کا اقرار کیا مگر وہ وقت ہمارے عذاب سے بھاگنے یا بچ نکلنے کا نہیں تھا، کیونکہ ہمارا قاعدہ ہے کہ جب ہمارا عذاب آ جائے تو پھر ایمان لانے یا توبہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس آیت کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ مؤمنون (۶۴، ۶۵)، مؤمن (۸۴، ۸۵) اور انبیاء (۱۱ تا ۱۳)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 جو ان سے زیادہ مضبوط اور قوت والے تھے لیکن کفر و جھٹلانے کی وجہ سے برے انجام سے دوچار ہوئے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ ان سے پہلے ہم کئی قومیں ہلاک کر چکے ہیں (عذاب کے وقت) انہوں نے چیخ و پکار شروع کر دی۔ حالانکہ تب مخلصی کا وقت [2] نہ رہا تھا
[2] سابقہ اقوام نے بھی یہی کچھ کیا تھا۔ پھر جب ان پر اللہ کا عذاب آگیا اس وقت وہ اللہ سے فریاد کرنے لگے اور ایمان کا اقرار کرنے لگے۔ حالانکہ توبہ و استغفار اور ایمان لانے کا وقت گزر چکا تھا۔ وہ تو عذاب کے نزول یا موت سے پہلے پہلے ہی ہوتا ہے۔ بعد میں کوئی بات کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَحِیْنَمَنَاصٍ ﴾”وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔“ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فتوعَّدهم بإهلاك القرون الماضية المكذِّبة بالرسل، وأنَّهم حين جاءهم الهلاكُ؛ نادَوْا واستغاثوا في صرف العذاب عنهم، ولكنْ {لاتَ حينَ مناص}؛ أي: وليس الوقت وقتَ خلاصٍ مما وقعوا فيه ولا فرج لما أصابهم، فليحذَرْ هؤلاء أن يَدوموا على عزَّتِهِم وشقاقِهِم؛ فيصيبُهم ما أصابهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔