تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ د علیہ السلام کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ د علیہ السلام کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ د علیہ السلام سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ د علیہ السلام کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿وَهَلْاَتٰىكَنَبَؤُاالْخَصْمِ ﴾”اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔“ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذْتَسَوَّرُوا ﴾”جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے“ حضرت داؤ د علیہ السلام کے پاس ﴿الْمِحْرَابَ﴾”محراب میں۔“ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى أنَّه آتى نبيَّه داود الفصل في الخطاب بين الناس، وكان معروفاً بذلك مقصوداً؛ ذَكَرَ تعالى نبأ خصمينِ اختصما عنده في قضيَّةٍ جعلهما الله فتنةً لداود وموعظةً لخلل ارتَكَبَهُ، فتاب الله عليه وغَفَرَ له وقيَّضَ له هذه القضيَّة، فقال لنبيِّه محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -: {وهل أتاك نبأُ الخصم}: فإنَّه نبأ عجيبٌ، {إذ تَسَوَّروا}: على داود {المحرابَ}؛ أي: محلَّ عبادتِهِ من غير إذنٍ ولا استئذانٍ، ولم يدخُلوا عليه مع باب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔