تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 20

وَ شَدَدۡنَا مُلۡکَہٗ وَ اٰتَیۡنٰہُ الۡحِکۡمَۃَ وَ فَصۡلَ الۡخِطَابِ ﴿۲۰﴾
اور ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کر دی اور اسے حکمت اور فیصلہ کن گفتگو عطا فرمائی۔ En
اور ہم نے ان کی بادشاہی کو مستحکم کیا اور ان کو حکمت عطا کی اور (خصومت کی) بات کا فیصلہ (سکھایا)
En
اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور اسے حکمت دی تھی اور بات کا فیصلہ کرنا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی اس نوازش کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو عظیم مملکت اور اقتدار عطا کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿وَشَدَدْنَا مُلْكَهٗ اور ہم نے ان کی بادشاہی کو استحکام بخشا۔ آپ کو جو اسباب، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان عطا کیا اس کے ذریعے سے ہم نے ان کی مملکت کو طاقتور بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ د علیہ السلام پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو علم عطا کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿وَاٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ یعنی ہم نے آپ کو نبوت اور علم عظیم سے سرفراز کیا۔ ﴿وَفَصْلَ الْخِطَابِ اور بات کا فیصلہ (سکھایا) یعنی لوگوں کے باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کا ملکہ بخشا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر منَّته عليه بالملك العظيم، فقال: {وشَدَدْنا مُلْكَه}؛ أي: قوَّيْناه بما أعطيناه من الأسباب وكثرة العَدَدِ والعُدَدِ التي بها قوَّى اللهُ ملكَه. ثم ذكر مِنَّتَه عليه بالعلم، فقال: {وآتَيْناه الحكمةَ}؛ أي: النبوَّة والعلم العظيم {وفصلَ الخطابِ}؛ أي: الخصومات بين الناس.