تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 22

اِذۡ دَخَلُوۡا عَلٰی دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنۡہُمۡ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ ۚ خَصۡمٰنِ بَغٰی بَعۡضُنَا عَلٰی بَعۡضٍ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَنَا بِالۡحَقِّ وَ لَا تُشۡطِطۡ وَ اہۡدِنَاۤ اِلٰی سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴿۲۲﴾
جب وہ داؤد کے پاس اندر آئے تو وہ ان سے گھبرا گیا، انھوں نے کہا مت ڈر، دو جھگڑنے والے ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، سو تو ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر اور بے انصافی نہ کر اور ہماری سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر۔ En
جس وقت وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ ہم دونوں کا ایک مقدمہ ہے کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو آپ ہم میں انصاف کا فیصلہ کر دیجیئے اور بےانصافی نہ کیجیئے گا اور ہم کو سیدھا رستہ دکھا دیجیئے
En
جب یہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے پاس پہنچے، پس یہ ان سے ڈر گئے، انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے! ہم دو فریق مقدمہ ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے اور ناانصافی نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راه بتا دیجئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَ٘صْمٰنِ دو جھگڑا کرنے والے ہیں اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشْطِطْ وَاهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّ٘رَاطِ اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلذلك لما دَخَلوا عليه بهذه الصورةِ؛ فَزِعَ منهم وخاف، فقالوا له: نحن خصمانِ؛ فلا تخفْ، {بغى بعضُنا على بعضٍ}: بالظلم، {فاحْكُم بينَنا بالحقِّ}؛ أي: بالعدل ولا تَمِلْ مع أحدِنا، {ولا تُشْطِطْ واهْدِنا إلى سواءِ الصِّراطِ}.