تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مشروب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ثُمَّاِنَّلَهُمْعَلَیْهَا ﴾” پھر بلاشبہ ان کے لیے ہوگا اس کے بعد“ یعنی اس بدترین کھانے کے بعد ﴿لَشَوْبً٘امِّنْحَمِیْمٍ﴾ گرم پانی، جس کی حرارت انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَاِنْیَّسْتَغِیْثُوْا۠یُغَاثُ٘وْابِمَآءٍكَالْ٘مُهْلِیَشْوِیالْوُجُوْهَ١ؕبِئْسَالشَّرَابُ١ؕوَسَآءَتْمُرْتَفَقًا﴾ (الکہف: 18؍29) ”اگر وہ پانی طلب کریں گے تو ان کو ایسا پانی پلایا جائے گا جو تلچھٹ جیسا ہو گا جو ان کے منہ کو بھون کر رکھ دے گا یہ بدترین مشروب اور نہایت بری آرام گاہ ہے۔“ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿وَسُقُوْامَآءًحَمِیْمًافَ٘قَ٘طَّ٘عَاَمْعَآءَهُمْ﴾ (محمد: 47؍15) ”اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر شرابهم، فقال: {ثم إنَّ لهم عليها}؛ أي: على أثر هذا الطعام {لَشَوْباً من حَميم}؛ أي: ماءً حارًّا قد تناهى حرُّه؛ كما قال تعالى: {وإن يَسْتَغيثوا يُغاثوا بماءٍ كالمُهْلِ يَشْوي الوجوهَ بئس الشرابُ وساءتْ مُرْتَفَقاً}، وكما قال تعالى: {وسُقوا ماءً حَميماً فقَطَّعَ أمعاءهم}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔