ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 67

ثُمَّ اِنَّ لَہُمۡ عَلَیۡہَا لَشَوۡبًا مِّنۡ حَمِیۡمٍ ﴿ۚ۶۷﴾
پھر بلا شبہ ان کے لیے اس پریقینا سخت گرم پانی کی آمیزش ہے۔ En
پھر اس (کھانے) کے ساتھ ان کو گرم پانی ملا کر دیا جائے گا
En
پھر اس پر گرم جلتے جلتے پانی کی ملونی ہوگی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 67) {ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيْمٍ: شَابَ يَشُوْبُ شَوْبًا} (ن) ملانا۔ { حَمِيْمٍ } انتہائی گرم پانی، یعنی زقوم کھانے کے بعد انھیں ایسی ہولناک پیاس لگے گی جس کی وجہ سے وہ مجبوراً انتہائی گرم پانی پییں گے، جو ایسا سخت گرم ہو گا کہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا، فرمایا: «‏‏‏‏وَ سُقُوْا مَآءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ» ‏‏‏‏ [محمد: ۱۵] اور انھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ یہی مضمون سورۂ واقعہ (۵۱ تا ۵۵) میں بھی بیان ہوا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

67۔ 1 یعنی کھانے کے بعد انہیں پانی کی طلب ہوگی تو کھولتا ہوا پانی انہیں دیا جائے گا، جس کے پینے سے ان کی انتڑیاں کٹ جائیں گی (مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ ۭ فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاۗءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهٗ ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ ڬ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ۭ وَلَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ ۭ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوْا مَاۗءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاۗءَهُمْ) 47۔ محمد:15)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ پھر اس پر انہیں پینے کو پیپ [40] ملا کھولتا ہوا پانی ملے گا
[40] یہ تو تھی دوزخیوں کی خوراک اور مشروبات کا یہ حال ہو گا کہ زخموں کا دھوون جس میں پیپ اور لہو سب کچھ شامل ہوتا ہے وہ پینے کو ملے گا اور اس میں گرم کھولتا ہوا پانی بھی شامل کر لیا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مشروب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا پھر بلاشبہ ان کے لیے ہوگا اس کے بعد یعنی اس بدترین کھانے کے بعد ﴿لَشَوْبً٘ا مِّنْ حَمِیْمٍ گرم پانی، جس کی حرارت انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا۠ یُغَاثُ٘وْا بِمَآءٍ كَالْ٘مُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتْ مُرْتَفَقًا (الکہف: 18؍29) اگر وہ پانی طلب کریں گے تو ان کو ایسا پانی پلایا جائے گا جو تلچھٹ جیسا ہو گا جو ان کے منہ کو بھون کر رکھ دے گا یہ بدترین مشروب اور نہایت بری آرام گاہ ہے۔ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿وَسُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَ٘قَ٘طَّ٘عَ اَمْعَآءَهُمْ (محمد: 47؍15) اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر شرابهم، فقال: {ثم إنَّ لهم عليها}؛ أي: على أثر هذا الطعام {لَشَوْباً من حَميم}؛ أي: ماءً حارًّا قد تناهى حرُّه؛ كما قال تعالى: {وإن يَسْتَغيثوا يُغاثوا بماءٍ كالمُهْلِ يَشْوي الوجوهَ بئس الشرابُ وساءتْ مُرْتَفَقاً}، وكما قال تعالى: {وسُقوا ماءً حَميماً فقَطَّعَ أمعاءهم}.