تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 68

ثُمَّ اِنَّ مَرۡجِعَہُمۡ لَا۠ اِلَی الۡجَحِیۡمِ ﴿۶۸﴾
پھر بلاشبہ ان کی واپسی یقینا اسی بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف ہو گی۔ En
پھر ان کو دوزخ کی طرف لوٹایا جائے گا
En
پھر ان سب کا لوٹنا جہنم کی (آگ کے ڈھیرکی) طرف ہوگا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ ، پھر ان کا لوٹنا یعنی ان کی منزل اور ٹھکانا ﴿لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ جہنم کی طرف ہوگا تاکہ وہ اس کے شدید عذاب اور سخت ترین حرارت کا مزا چکھیں جس سے بڑھ کر کوئی بدبختی نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم إنَّ مَرْجِعَهم}؛ أي: مآلهم ومقرّهم ومأواهم {لإلى الجحيم}: ليذوقوا من عذابه الشديد وحرِّه العظيم ما ليس عليه مزيدٌ من الشقاء.