تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 26

بَلۡ ہُمُ الۡیَوۡمَ مُسۡتَسۡلِمُوۡنَ ﴿۲۶﴾
بلکہ آج وہ بالکل فرماں بردار ہیں۔ En
بلکہ آج تو وہ فرمانبردار ہیں
En
بلکہ وه (سب کے سب) آج فرمانبردار بن گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

تو گویا وہ اس سوال کا جواب نہیں دیں گے کیونکہ ان پر ذلت اور بے چارگی چھائی ہوئی ہو گی اور وہ اپنے آپ کو جہنم کے عذاب کے حوالے کر رہے ہوں گے، وہ ڈرے ہوئے اور مایوس ہوں گے اور بول نہیں سکیں گے، اس لیے فرمایا: ﴿بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ۠ بلکہ وہ (سب کے سب) آج فرمانبردار بن گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فكأنهم لا يجيبون هذا السؤال؛ لأنَّهم قد علاهم الذُّلُّ والصَّغارُ، واستسلموا لعذابِ النارِ وخَشَعوا وخَضَعوا وأُبْلِسوا، فلم يَنْطِقوا، ولهذا قال: {بل هُمُ اليومَ مُسْتَسْلِمونَ}.